راجستھان میں لوجہاد کے نام پر مسلم نوجوان کے قتل کے خلاف جادو پور یونیورسٹی کے طلبہ کا شدید احتجاج

راجستھان کے ضلع راجسمند میں ’’لو جہاد کے نام پر 50سالہ بنگالی مسلم ‘‘ کے قتل کے خلاف آج جادو پور یونیورسٹی کے طلبا ء کا ایک گروپ نے کلکتہ میں واقع آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کیشو بھون کے گھیراؤ کیلئے جلوس نکالا تھا

Dec 08, 2017 07:51 PM IST | Updated on: Dec 08, 2017 08:02 PM IST

کلکتہ : راجستھان کے ضلع راجسمند میں ’’لو جہاد کے نام پر 50سالہ بنگالی مسلم ‘‘ کے قتل کے خلاف آج جادو پور یونیورسٹی کے طلبا ء کا ایک گروپ نے کلکتہ میں واقع آر ایس ایس کے ہیڈ کوارٹر کیشو بھون کے گھیراؤ کیلئے جلوس نکالا تھا مگر جلوس کو راستے میں روک دیے جانے پر پولس اور طلباء کے درمیان جھڑپ ہوگئی جس میں کئی افراد زخمی ہوگئے ۔پولس کے ذریعہ لگائے گئے بریگیڈ کو توڑنے کی کوشش کررہے طلباء کو گرفتار کیے جانے کے بعد ہی طلباء بے قابو ہوگئے اور پولس و طلباء کے درمیان جھڑپ ہونے لگی۔اس میں تین طلباء اور دو پولس اہلکار زخمی ہوگئے ۔پولس نے اس معاملے میں 20 طالب علم کو گرفتار کیا ہے ۔

جادو پور یونیورسٹی کے ایک طالب سادانائیک مکھوپادھیائے نے بتایا کہ جلوس پر امن انداز میں آگے بڑھ رہاتھاکہ اسی درمیان پولس نے ہمارے ساتھ سختی شروع کردی اور ہمارے کچھ ساتھیوں کو گرفتار کرکے پولس اسٹیشن لے گئے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ہماری ساتھی طلباء کو بلا شرط رہا کیا جائے ۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم اس کے خلاف بڑی مہم چلائیں گے۔جادو پور یونیورسٹی کے طلباء نے بتایا کہ راجستھان کے راجسمند ضلع میں پیش آنے والے یہ بہیمانہ واقعہ نے ثابت کردیا ہے کہ آر ایس ایس نے ملک کے نوجوانوں میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف جو زہر پھیلایا تھا، وہ بے قابو ہوتا جارہا ہے ۔اب کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ۔کسی کا بھی کسی بھی وقت قتل ہوسکتا ہے ۔یہ کوئی ایک فرد کی حرکت نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے اس لیے ہم لوگ آر ایس ایس کے دفتر کا گھیراؤ کرنے کا پروگرام بنایا تھا ۔مگر پولس نے اس پرامن جلوس کو تشدد میں تبدیل کرکے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔

راجستھان میں لوجہاد کے نام پر مسلم نوجوان کے قتل کے خلاف جادو پور یونیورسٹی کے طلبہ کا شدید احتجاج

دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے راجستھان میں لو جہاد کے نام پر مارے گئے بنگالی مسلم افرازالاسلام کے اہل خانہ کو 3لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔افرازالاسلام کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ راجستھان میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ہماری ریاست کے مالدہ ضلع کے رہنے والے افرازالاسلام خان کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا ہے ۔اس کی وجہ سے اس کے خاندان پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا ہے ۔ہم اس خاندان کی چھوٹی سی مدد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ مقتول کے خاندان کو بنگال حکومت 3لاکھ روپے دے گی۔

وزیرا علی ممتا بنرجی نے اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہی کل ٹوئیٹ کرتے ہوئے اس پورے واقعہ پر غم و غصہ کا اظہار کیا تھا اورٹوئٹ میں کہا تھا کہ کوئی انسان اس قدر حیوانیت پر کیسے اتر سکتا ہے ؟۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز