تباہ حال سیلاب زدگان کے لیے نتیش حکومت فوری طور پر بنیادی اور ضروری اقدامات اٹھائے: مولانا محمود مدنی

Sep 25, 2017 09:35 AM IST | Updated on: Sep 25, 2017 09:35 AM IST

کش گنج؍نئی دہلی: بہارسیلاب متاثرین کے لیے روز اول سے کام کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی قیادت میں ایک وفد نے آج سیمانچل اور شمالی دینا ج پورکے سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کر کے دکھ درد بانٹنے کی کوشش کی ۔ اس موقع پر مولانا مدنی نے جمعیۃ کی جانب سے اب تک مختلف اضلاع میں بنائے گئے 74؍مکانات کا جائزہ لیا اور لہریا پھلواری کشن گنج میں ایک بیوہ خاتون کو گھر کی چابی دے کر اِن مکانات کا افتتاح کیا ۔ مولانا مدنی نے لہریا میں ہی ایک یتیم بچے کے لیے پختہ مکان کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور بچے کے سر پر ہاتھ کر اعلان کیا کہ جمعیۃ اس یتیم کی مکمل کفالت کرے گی ، واضح ہو کہ اس بچے کی ماں گزشتہ سال سیلاب کی زد میں آکرگزرچکی ہے، اس سال کے سیلاب نے اس معصوم سے اس کا بچا ہوا ایک آشیانہ بھی چھین لیا ۔

تاہم مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء بہار ریلیف کمیٹی کو اس بات کی ہدایت دی کہ گھر کے ساتھ ٹوائلٹ بھی بنایا جائے ۔انھوں نے کہا کہ کوئی گھر اور معاشرہ ٹوائلٹ کے بغیر ادھورا اور غیر شائستہ ہے ۔ مولانا مدنی نے آج صبح کشن گنج کے کمار مونی گاؤں کا بھی دورہ کیا ، جہاں پورا گاؤں تالاب میں بدل گیا ہے ۔اس گاؤں میں 63؍خاندان رہتے ہیں ۔یہاں جمعیۃ نگر کے نام سے کالونی بنائی جائے گی ، مولانا مدنی نے دیناج پور کے ڈائٹن گاؤں کا بھی دورہ کیا ۔ ازیں قبل مولانا محمود مدنی سنیچر کی شام دہلی سے کشن گنج پہنچے، ان کے ہمراہ جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی بھی تھے۔

تباہ حال سیلاب زدگان کے لیے نتیش حکومت فوری طور پر بنیادی اور ضروری اقدامات اٹھائے: مولانا محمود مدنی

مولانا مدنی نےایک یتیم بچے کے لیے پختہ مکان کا سنگ بنیاد رکھا

مولانا مدنی نے فوری طور سے سیمانچل کے چاروں اضلاع اور شمالی دیناج پور کے ذمہ داروں سے ایک اہم میٹنگ کی جس میں ایک ماہ سے چل رہے ریلیف آپریشن کا جائزہ لیا اور جمعیۃ علماء بہار ریلیف کمیٹی کو ہدایت کی کہ دس دن کے اندر متاثرین کاایک جامع سروے مکمل کیا جائے ، اس کے لیے سبھی اضلاع میں پانچ پانچ ٹیم بنانے کی بھی ہدایت دی ، سروے میں خاص طور سے یتیم ، بیوہ اور معذور افراد کی نشاندہی کی جائے۔ مولانا مدنی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سروے کے مطابق روڈمیپ تیار کرکے جمعیۃ علماء ہند حتی الوسع اپنی جانب سے بازآبادکاری کرے گی اورسرکاری سطح پر بھی ان کو معاوضہ دلانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔

حالاں کہ مولانا مدنی نے سرکار کی جانب سے جاری راحت آپریشن کی سست روی پر سوال اٹھا یا کہ سیمانچل کی ایک چوتھائی آ بادی نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے ، ایسی صورت میں محض پانچ سو کروڑ کی امداد اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے ۔انھوں نے بہار سرکار کو متوجہ کیا کہ وہ شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھیا کر نہ بیٹھے بلکہ لوگوں کو گھر اور روزگار فراہم کرنے کے لیے ضروری اور بنیادی قدم اٹھائے۔ مولانا مدنی نے جمعیۃ علماء کھرگون ( مدھیہ پردیش ) اور جمعےۃ علماء احمد آباد کی رکھیال یونٹ کے تعاون سے بالترتیب پچاس اور چودہ مکانات کی تعمیر اور متاثرین کی حوالگی پر اطمینان ظاہر کیا ۔ اس موقع پر مولانا مفتی جاوید اقبال قاسمی کنوینر جمعیۃ علماء بہار ریلیف کمیٹی نے مولانا مدنی کو ایک رپورٹ پیش کی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کمار مونی گاؤں میں جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے ضلع انتظامیہ نے زمین بھرنے کام شروع کردیا ہے ۔

جمعیۃ ریلیف کمیٹی کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ارریہ میں مزید آٹھ مکانات کی تعمیر جاری ہے ۔ راحت رسانی کے عنوان سے جمعیۃ علماء ہند نے سیمانچل اور شمالی دیناج پورکے589؍گاؤں میں ریلیف کا کام کیا ہے ، جن میں اب تک2 36,43کٹس تقسیم کیے گئے ہیں ۔ان کے علاوہ جمعیۃ علماء بنار س ،مؤاوراعظم گڑھ سے 20 ہزار نئی ساڑیاں، مختلف مقامات سے در آمد 20 ہزار جوڑے ، جمعیۃ علماء رکھیال احمد آباد کی طرف سے 100؍ کچن سیٹ ،68؍ چینی مٹی کے پلیٹ ، گجرات کے مختلف مقامات سے ضلع پورنیہ میں 35 بنڈل پرانے کپڑے، جمعیۃ علماء سلطان پور کی جانب سے 180 کوئنٹل غلہ وغیرہ بھی تقسیم کیے گئے ۔ جمعیۃ علماء ہند کے وفدمیں مذکورہ شخصیات کے علاوہ مولانا محمد ناظم جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بہار، مولانا غیاث الدین قاسمی،مفتی محمد مناظر نعمانی،مفتی عبدالحنان قاسمی ، مولانا خالد انور، ارریہ سے الحاج بذل الرحمن، مفتی اطہر قاسمی،ڈاکٹر عابد،مولانا حدیث اللہ،پورنیہ سے مولانا امتیاز،مولانا ابوصالح،کٹیہار سے مفتی نجم الہدی،مولانا بدرالدجی،اتردیناج پور سے مولانا معروف،قاری عبداللہ،مولانا نوید وغیرہ شریک تھے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز