جنتا دل (یو) نے تیجسوی پرساد یادو کو حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا دیا موقع

Jul 11, 2017 09:19 PM IST | Updated on: Jul 11, 2017 09:19 PM IST

پٹنہ۔  بدعنوانی کے معاملے میں مبینہ طورپر پھنسے بہار میں حکمراں مہاگٹھبندھن کی بڑی حلیف پارٹی راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈر اور نائب وزیراعلی تیجسوی پرساد یادو کے خلاف مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے معاملہ درج کئے جانے سے پیدا ہوئی سیاسی ہلچل کے درمیان آج جنتا دل (یو) نے کہا کہ وہ مسٹر یادو سے عوام کو ان کے خلاف لگے الزام کے تعلق سے حقائق پر مبنی جواب دینے کی امید کرتی ہے۔ پارٹی کے ریاستی ترجمان اور قانون ساز کونسل رکن نیرج کمار نے پارٹی کے اسمبلی اراکین، رکن پارلیمان، ضلعی صدور اور مختلف یونٹوں کے صدور کے ساتھ ریاستی صدر وششٹھ نارائن کی صدارت میں ہوئی میٹنگ کے بعد یہاں جنتادل (یو) کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بدعنوانی اور جرائم پر پارٹی کا موقف واضح کرتے ہوئے نائب وزیراعلی تیجسوی پرساد یادو کا نام لئے بغیر کہا کہ جن پر اس طرح کے الزام لگ رہے ہیں وہ عوام کی عدالت میں اپنی بات رکھیں۔ پارٹی امید کرتی ہے کہ الز ام لگنے کے بعد وہ حقائق پر مبنی جواب عوام کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی پیش کریں گے۔

مسٹر کمار نے کہا کہ ان کی پارٹی اتحاد کے بنیادی اصولوں کا پالن کرنا چاہتی ہے ان اصول پر عمل کرنا بھی چاہتی ہے۔ بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے پارٹی ہمیشہ پرعزم رہی ہے۔ ایسے میں اب یہ فیصلہ جن پر الزم لگا ہے (تیجسوی) انہیں ہی کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ جنتادل (یو) کو اپنے کام پر اعتماد ہے۔ ترجمان نے بدعنوانی کے خلاف وزیر اعلی نتیش کمار کے اب تک کے کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر کمار نے 2005 میں اپنی حلف برداری کے چار گھنٹے کے اندر ہی نومنتخب وزیر جتن رام مانجھی سے ایک پرانے معاملے میں استعفی لے لیا تھا۔ مسٹر کمار نے کہا کہ اسی طرح سال 2008 میں ایک اور پرانے معاملہ میں اس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ رامانند پرساد سنگھ سے بھی استعفی لیا گیاتھا۔ سال 2011 میں اس وقت کے کوآپریٹیو وزیر رامدھار سنگھ، 18 فروری 2010 کو وزیر جمشید اشرف سے اور سال 2015 کے اسمبلی انتخابات کے وقت اس وقت کے وزیر اودھیش کشواہا سے استعفی لے لیا گیا تھا۔

جنتا دل (یو) نے تیجسوی پرساد یادو کو حقائق عوام کے سامنے رکھنے کا دیا موقع

تیجسوی یادو: فائل فوٹو

ترجمان نے کہا کہ ان کی پارٹی سیاسی کردار میں ہی نہیں بلکہ سماجی اصلاحات کی سمت میں بڑھ رہی ہے۔ وہ بدعنوانی، بچوں کی شادی اور جہیز کی رسم کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی ایک قومی شناخت بنی ہے اور پارٹی نے قول اور فعل میں کبھی بھی فرق نہیں کیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز