کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کرنان نے چیف جسٹس سمیت 6 ججوں کو پانچ سال قید کی سنائی سزا

May 08, 2017 09:15 PM IST | Updated on: May 08, 2017 09:15 PM IST

کلکتہ : کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس کرنان نے چیف جسٹس جے ایس کھیہر سمیت سپریم کورٹ کے 6 دیگر ججوں کو پانچ سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ جج نے یہ فیصلہ ان سب کو شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب (انسداد زیادتی) ایکٹ کے تحت مجرم پائے جانے پر دیا ہے۔ خیال رہے کہ خود جسٹس کرن پر عدلیہ کی توہین کرنے اور سپریم کورٹ ججوں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات لگانے کو لے کر عدالت کی توہین کا الزام ہے۔

سپریم کورٹ کی بنچ نے ان کے عدالتی کام کاج کو جاری رکھنے کی درخواست یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دی تھی کہ ہائی کورٹ کے جج دماغی طور پر ٹھیک نہیں ہیں۔ عدالت عظمی نے جسٹس کرنان کے خلاف 17 مارچ کو ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا۔ 2 مئی کو جسٹس کرنان نے آئین کے آرٹیکل 226 کا استعمال کرتے ہوئے سوموٹو حکم جاری کیا تھا۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کرنان نے چیف جسٹس سمیت 6 ججوں کو پانچ سال قید کی سنائی سزا

photo : PTI

چیف جسٹس آف انڈیا اور 6 دیگر ججوں کو انہوں نے پیش ہونے کیلئے سمن جاری کیا تھا۔جسٹس کرنان کے سامنے پیش نہیں ہوئے تو انہوں نے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے 8 مئی کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔ پیر کو جب سپریم کورٹ کے جج پیش نہیں ہوئے تو جسٹس کرنان نے اسے اپنی عدالت کی توہین سمجھتے ہوئے تمام 7 ججوں کو 5 سال کی سزا سنا دی ہے۔

یکم مئی کو سپریم کورٹ نے جسٹس کرنان کی دماغی صحت کی جانچ کے لئے میڈیکل بورڈ قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ عدالت نے ملک کی تمام اداروں سے کہا تھا کہ وہ جسٹس کرن طرف سے 8 فروری سے یکم مئی تک دیے گئے احکامات کو نہ مانیں۔سپریم کورٹ نے جسٹس کرنان کو اپنا موقف رکھنے کا موقع دیا تھا مگر وہ کارروائی میں حاضر نہیں ہوئے۔بلکہ انہوں نے الزام عاید کیا کہ ان کی توہین صرف اس لیے کی جاری ہے کہ چوں کہ وہ دلت برداری سے آتے ہیں ۔اس کے علاوہ انہوں نے سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود طبی جانچ کرانے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز