متنازع جج جسٹس کرنن کلکتہ ہائی کورٹ سے سبکدوش، 9 مئی کی صبح کے بعد سے آج تک ہیں وہ لاپتہ

Jun 12, 2017 09:15 PM IST | Updated on: Jun 12, 2017 09:16 PM IST

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے متنازع جج جسٹس سی ایس کرنن آج ریٹائرڈ ہوگئے ہیں تاہم سپریم کورٹ کے ذریعہ توہین عدالت پر 6مہینہ قید کی سزا دیے جانے کے بعد سے ہی وہ فرار ہیں ۔ 9مئی کی صبح جسٹس کرنن کلکتہ سے چنئی چلے گئے ا س کے بعد سے ہی ان کا کوئی پتہ نہیں ہیں ۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر جسٹس کرنن کو گرفتار کرنے گئی کلکتہ پولس کی ٹیم کچھ دنوں تک چنئی میں مقیم رہ کر جسٹس کرنن کو گرفتار کرنے کی کوشش کی مگر انہیں ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

کلکتہ پولس کی ٹیم تمل ناڈو کی پولس کی مدد سے جسٹس کرنن کے آبائی گاؤں وری دھاچالان بھی گئی مگر وہاں بھی ان کا کوئی سراغ نہیں ملاہے ۔ان کے فرار ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی استقبالیہ نہیں دیا گیا ۔کرن کو 2009کو جج کے طور پر تقرر کیا گیا تھا ۔جج کے طور پر ان کا آج آخری دن تھا ۔

متنازع جج جسٹس کرنن کلکتہ ہائی کورٹ سے سبکدوش، 9 مئی کی صبح کے بعد سے آج تک ہیں وہ لاپتہ

photo : PTI

جسٹس چنا سوامی سوسوامیناتھن کرنن عدالت کے نظام پر دیے گئے اپنے بیانات کی وجہ سے تنازع میں تھے۔وہ 1955میں پیدا ہوئے تھے۔ جج کے طور پر تقرری کے بعد سے ہی وہ ہندوستان کے عدالتی نظام کی تنقید کرتی رہی ہیں ۔پہلی مرتبہ انہوں نے 2011میں شیڈول کاسٹ کمیشن میں شکایت درج کرائی کہ انہیں دلت ہونے کی وجہ سے پریشان کیا جارہا ہے ۔

اس کے بعد وہ مدارس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے انہیں بدعنوان قرار دیا ۔اس کے بعد سے ہی وہ تنازع کا شکار تھا۔جسٹس کرنن نے چیف جسٹس آف انڈیا سمیت سپریم کورٹ کے سات ججوں کو بھی برطرف کردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز