سعودی عرب میں ظلم و ستم اور اذیتوں سے پریشان ہو خودکشی کرنے والے کمال اختر کی لاش آٹھ ماہ بعد پہنچی پٹنہ

Apr 02, 2017 12:11 PM IST | Updated on: Apr 02, 2017 12:11 PM IST

پٹنہ : خلیجی ممالک میں عام طور سے چھوٹی موٹی نوکری کے دوران تقریباً ہر انسان کو کافی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے، لیکن ایک موٹی رقم خرچ کر کے اپنی فیملی کے لیے تھوڑی زیادہ اجرت کے لالچ میں سب کچھ برداشت کر لیتا ہے۔ مگر کبھی کبھی یہ زیادتی حد سے زیادہ ہو جائے ، تو کسی کی جان تک لے لیتی ہے۔ ایسا ہی اپنے بچوں کی بہتر زندگی کا خواب لے کر سعودی عرب گئے کمال اختر کے ساتھ ہوا، جس کی لاش کو اس کے اہل خانہ تک پہنچنے میں آٹھ ماہ لگ گئے ۔

غیرملک میں کام کرنے پر اگر موت ہو جائے تو ظاہر ہے میت کی تدفین فورا ہو جائےگی ، یا کچھ دنوں کے اندر لاش کو اس کے ملک روانہ کردیا جائےگا۔ لیکن اگر گھر والوں کو آٹھ مہینہ بعد لاش ملتی ہے ، تو یہ حیران کرنےوالی بات ہے۔ یہ دردناک حادثہ سعودی عرب میں پیش آیا۔

سعودی عرب میں ظلم و ستم اور اذیتوں سے پریشان ہو خودکشی کرنے والے کمال اختر کی لاش آٹھ ماہ بعد پہنچی پٹنہ

بہار کے نوادہ ضلع کے رہنے والے کمال اختر ڈرائیور کے ویزہ پر سعودی کے حیفر الباطن میں المطاہری ابو خالد نام کے ایک شیخ کے یہاں کام کرتے تھے۔ ڈرائیور ویزہ پر گئے تھے ، لیکن ان سے ریگستان میں بکری چروایا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ ان کو مارا پیٹا بھی جاتا تھا۔ تنگ آکر کمال اختر نے خودکشی کرلی۔ گھر والے آٹھ مہینہ سے سفارتخانہ کا چکر لگاتے رہے ، لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس درمیان سعودی عرب میں ہی کام کررہے بہار شریف کے سید نظامی کے پاس یہ خبر پہنچی۔ نظامی نے لگاتار پانچ مہینہ تک جدوجہد کی تب جاکر ڈیپ فریزرمیں آٹھ مہینہ سے رکھی لاش پٹنہ پہنچی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز