مغربی بنگال : بلوچستان اور کشمیر سے متعلق پروگرام کیلئے جگہ دینے سے کلب کا انکار، آرگنائزرس شدید برہم

Jan 05, 2017 11:47 PM IST | Updated on: Jan 05, 2017 11:48 PM IST

کلکتہ: کلکتہ شہر میں ایک گرو پ کو کشمیر او ر بلوچستان میں رفیوجیوں کے مسائل پر سمینار کرنے کی اجازت دینے سے کلب انتظامیہ انکارکردیا ہے۔پروگرام آرگنائزر کے مطابق انتظامیہ نے شہر میں لا اینڈ آرڈر کا حوالہ دے کر کلب کو پروگرام کیلئے ہال نہیں دینے کی ہدایت دی ہے ۔

’’سوادھیکار بنگلا فاؤنڈیشن ‘‘ نے کشمیری رفیوجی کے مسائل پر سیمینار کیلئے  ہال بک کیا تھا۔آرگنائزر کرنل ریٹائرڈ دیپاتنشو چودھری نے کہا کہ اس سیمینار کا مقصد کشمیر اور بلوچستان کے مسئلے سے قوم کو آگاہ کرنا تھا۔مگر اچانک کلب نے کہا کہ پروگرام سے کشمیر کا لفظ ختم کیا جائے اور دو مقرروں کے نام حذف کیے جائیں ۔مگر ہم نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔اس کے بعد ہی کلب نے کہا کہ چوں کہ پولیس انتظامیہ کشمیر کے مسئلے پر پروگرام کی اجازت دینے کے حق میں نہیں ہے، اس لیے پروگرام رد کیا جاتا ہے کیوں کہ اس شہر میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

مغربی بنگال : بلوچستان اور کشمیر سے متعلق پروگرام کیلئے جگہ دینے سے کلب کا انکار، آرگنائزرس شدید برہم

pic : indiatoday

اس پروگرام میں مقررکی حیثیت سے ڈاکٹر طارق فتح جو پاکستانی نژاد کنیڈائی شہری ہیں ۔لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ جے ایم مکھرجی، میجر جنرل ریٹائرڈ جی ڈی بخشی،سوشیل پنڈت، عارف محمد خان اور ابھیجیت بھٹاچاریہ کے نام شامل تھے۔ کرنل ریٹائرڈ دیپاتنشو چودھری نے کہا کہ کلب انتظامیہ نے اپنی نوعیت کے منفرد پروگرام کو رد کردیا جب کہ یہ شخصی آزادی پر براہ راست حملہ ہے ۔لوگوں کو کشمیر اور بلوچستان سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا حق ہے ۔ان دونوں ایشوز کو وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اٹھایا تھا۔

دوسری جانب کلکتہ پولس نے اس پورے معاملے کی تردید کی ہے۔ایڈیشنل کمشنر آف پولس نے کہا کہ کلب نے اجازت طلب کی تھی مگر بعد میں خود کہا کہ پروگرام رد کردیا گیاہے ۔لہذا کلکتہ پولس کے اجازت دینے اور نہیں دینے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی نژاد کنیڈائی شہری طارق فتح جو ان دنوں ٹی وی چینلوں پر مسلم مخالف بیانات کیلئے بلائے جاتے ہیں ممتا بنرجی اور حکومت بنگال کے خلاف ٹوئیٹ کرکے نیا تنازع پیدا کردیا ہے کہ کیا غیر ملکی شہری کو ملک کے اندرونی معاملات میں بولنے کی اجازت کہاں تک ہے۔طارق فتح نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے بنگال کو اسلامک اسٹیٹ بتاتے ہوئے کہا کہ بنگال میں پاکستان کے خلاف بولنے کا حق نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز