کلکتہ ہائی کورٹ کے متناز ع جج جسٹس کرنان نے چیف جسٹس ودیگر 6ججوں کو اپنی رہائشی عدالت میں پیش ہونے کی دی ہدایت

Apr 13, 2017 10:51 PM IST | Updated on: Apr 13, 2017 10:51 PM IST

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے بیباک جج جسٹس سی ایس کرنان نے چیف جسٹس آف انڈیا اور سپریم کورٹ کے دیگر 6ججوں کے پینل جنہوں نے ان کے خلاف وارنٹ جاری کیا تھا کو ہدایت دی ہے کہ 28اپریل کو ان کی ’’رہائشی عدالت‘‘ کے سامنے پیش ہوں۔ جسٹس کرنان نے کہا کہ اس پینل نے ان کے خلاف ضمانتی وارنٹ جاری کرکے ان کی توہین کی ہے ۔یہ عمل جان بوجھ کر انجام دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ججوں کے اس پینل نے ایس سی اور ایس ٹی تحفظ ایکٹ کی توہین کی گئی ہے ۔جسٹس کرنان نے کہا کہ ان کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کا یہ رویہ اس لیے ہے چوں کہ وہ دلت ہے۔

اپنی رہائش گاہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جسٹس کرنان نے کہا کہ ’’28-4-2017کو 11.30بجے سپریم کورٹ کے 7ججز میرے رہائشی عدالت کے سامنے پیش ہوں گے اور شیڈو کاسٹ و شیڈول ٹرائب ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر میرے سامنے پیش ہوں گے ۔انہوں نے ’’از خودعدالتی آرڈر ‘‘ جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں عدالت کو متنقل کردیا ہے۔ آرڈر پر دستخط جاری کرتے ہوئے جسٹس کرنان نے کہا کہ 31مارچ کو انہوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے 7ججوں نے شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب ایکٹ 1989کی خلاف ورزی کی ہے ۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے متناز ع جج جسٹس کرنان نے چیف جسٹس ودیگر 6ججوں کو اپنی رہائشی عدالت میں پیش ہونے کی دی ہدایت

آج کے حکم میں جسٹس کرنان نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا جی ایس کھیہر نے 31مارچ کو ان کے دماغی حالت پر سوال اٹھا یا تھا اور دیگر 6ججوں نے بھی اس کی تصدیق کی تھی۔جسٹس کرنان نے کہا کہ کھلی عدالت میں ان کی توہین کی گئی ہے ۔ خیال رہے کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کور ٹ نے10مارچ کو عدالت کی توہین کے معاملے ان کے خلاف ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت دی تھی ۔مگر جسٹس کرنان نے خود ہی اس کو رد کردیا تھا۔جسٹس کرنان نے چیف جسٹس آف انڈیا اور دیگر سپریم کورٹ کے 6ججوں پینل کے اس حکم کو تسلیم کرنے سے انکارکردیا تھاکہ انہیں ہائی کورٹ کے سینئر جج کے خلاف وارنٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز