غیر معروف افراد کے بیانات کو فتویٰ کے طور پر پیش کرنے کی میڈیا کی روش پر مسلمانوں میں شدید بے چینی

Apr 23, 2017 03:38 PM IST | Updated on: Apr 23, 2017 04:34 PM IST

کولکاتہ : مشہو گلو کار سونو نگم کے آذان سے متعلق متنازع بیان پر فتویٰ جاری کرنے والے ’’سید شاہ عاطب علی قادری‘‘ کو میڈیا بالخصوص الیکٹرنک کے ذریعہ سے غیر معمولی اہمیت دیے جانے پر کلکتہ کے علماء و دانشور وں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا مسلمانوں کے مثبت کاموں کی رپورٹنگ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے غیر معروف اور شہرت کیلئے فتویٰ کا سیاسی اور ذاتی شہرت کیلئے استعمال کرنے والوں کوغیر معمولی اہمیت دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ مسلمانوں میں اسی طرح کی ذہنیت کے لوگوں کو قیادت شپ حاصل ہے ۔

خیال رہے کہ ہوڑہ ضلع کے بگنان کے خانقاہ شریف کے پیرز ادہ ’’سید شاہ عاطب علی قادری‘‘ جو سونو نگم کے خلاف فتویٰ سے قبل تک مغربی بنگال کے مسلمانوں کے درمیان غیر معروف تھے ۔ نہ وہ کسی مسجد کے امام ہیں نہ عالم دین اور نہ ہی مفتی اس لیے انہیں فتویٰ دینے کا اختیار حاصل بھی نہیں ۔اس کے باوجود گلو کار سونو نگم کے خلاف ان کے بیان کومیڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی گئی اور اس پر ٹی وی چینلوں پر پینل بحث بھی ہوئی ۔ مسلم علماء و دانشوروں کا کہنا ہے کہ سید شاہ عاطب علی قادری نہ مولانا ہیں نہ مولوی ہیں اس کے باوجود ہم سمجھ نہیں پائے کہ میڈیا نے ان کے بیانات کو اتنی اہمیت کیوں دی ۔جب کہ فتویٰ دینے کے کچھ اصول و ضوابط ہیں اور ہر کسی کے بیانات کو فتویٰ کے زمرے میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔

غیر معروف افراد کے بیانات کو فتویٰ کے طور پر پیش کرنے کی میڈیا کی روش پر مسلمانوں میں شدید بے چینی

خیال رہے کہ سونونگم کے متنازع بیان نے قادری نے نگم کے بال کاٹنے والوں کیلئے دس لاکھ روپے کا انعام کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد سونو نگم نے خود اپنے سر سے با ل صاف کراکر اپنے ہجام کو 10لاکھ روپے انعام میں دینے کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم قادری نے یہ کہتے ہوئے انعام کی رقم دینے سے انکار کردیا تھا کہ ان کی تمام شرطین پوری نہیں کی گئی ہے ۔خیال رہے کہ دو دن قبل کلکتہ میں پریس کلب میں منعقد پریس کانفرنس میں قادری کسی بھی سوال کا جواب قرآن و حدیت کے تناطر میں دینے سے گریز کرتے ہوئے غیر ضروری ایشو اٹھاتے ہوئے یہ ثابت کرنے میں ناکام تھے کہ انہیں فتویٰ دینے کا اتھارٹی کس نے دیا اور مذہب کی تعلیم کہاں سے حاصل کی ہے؟

خیال رہے کہ کلکتہ میں ان دنوں فتویٰ کی سیاست اور متنازع بیانات کے ذریعہ سرخیوں میں آنے کے رجحان میں اضافہ ہواہے۔ایک طرف بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے متعلق متنازع بیانات دیتے رہتے ہیں ۔کل ہی انہوں نے کہا ہے کہ ’’جے شری رام ‘‘ کے نعرے کی مخالفت کرنے والوں کو تاریخ کا حصہ بنادیا جائے گا ۔؟ اس سے قبل ٹیپو سلطان مسجد کے امام مولانا نور الرحمن برکتی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی داڑھی نوچنے والوں کو انعام دینے کا اعلان کرکے ٹی وی چینلوں پر چھا گئے تھے۔

کلکتہ کے مسلمانوں کی فکر ہے کہ اس طرح کے بیانات کی وجہ سے بی جے پی ، آر ایس ایس اور دیگر ہندو تنظیموں کو پولرائزیشن کی سیاست کا موقع مل رہا ہے ۔اس طرح کے بیانات کے بنگالی مسلمانوں کا مشترکہ موقف قرار دے کر مسلمانوں اور ہندؤں کے درمیان منافرت پھیلائی جاتی ہے۔ترنمول کانگریس کے ایک مسلم ریاستی وزیر نے اپنا نام شائع نہیں کرنے کی درخواست پر کہا کہ حکومت کو اس طرح کے منافرت اور متنازع بیانات دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔اس میں کسی کے درمیان تفریق نہیں کرنا چاہیے۔

ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے صدر شمیم احمد نے کہاکہ متنازع بیانات کے ذریعہ میڈیا میں آنے کی خواہش اور اس طرح کے لوگوں کو میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دیا جانا تشویش ناک ہے اور اس سے ریاست کے اتحاد و سالمیت کے شدید نقصان پہنچتا ہے ۔سماج اور معاشرہ کو اس طرح کے بیانات دینے والوں سے برأت کا اظہار کرنا چاہیے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز