استعفی کے بعد بولے لالو: نتیش کمار کے خلاف خود درج ہے قتل اور 302 کا کیس

Jul 26, 2017 08:30 PM IST | Updated on: Jul 26, 2017 08:30 PM IST

پٹنہ۔ نتیش کمار کے استعفی کے بعد لالو پرساد نے ان پر بڑا الزام لگایا ہے۔ لالو نے کہا کہ نتیش جو بدعنوانی کو لے کر زیرو ٹالرینس کی بات کرتے ہیں جرم کے معاملات میں خود ملزم ہیں۔ ہمیں انتخابات میں تمام طبقوں کی حمایت ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ جان کر نتیش نے ہم سے ہاتھ ملایا تھا۔

لالو نے کہا کہ جو خود 302 کے ملزم ہیں وہ کرپشن کو لے کر زیرو ٹالرینس کی بات کر رہے ہیں۔ نتیش جب میرے سے ملنے آئے تھے تو میں تو خود چارہ گھوٹالے میں چارج شیٹیڈ تھا پھر بھی وہ ساتھ آئے۔ انہوں نے اس استعفی کو بدقسمتی بتایا۔ لالو نے کہا کہ نتیش کمار کی پہلے ہی سیٹنگ تھی اور معاملہ مکمل طور پر سیٹ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم ان کے استعفی کے بعد خود ٹویٹ کرتے ہیں جو اپنے آپ میں بڑی بات ہے اور یہ پوری سیٹنگ کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کے خلاف خود جرائم کے کئی سنگین معاملے درج ہیں۔ لالو نے کاغذات کے ساتھ صحافیوں کو اس بات کے ثبوت بھی دیئے۔

استعفی کے بعد بولے لالو: نتیش کمار کے خلاف خود درج ہے قتل اور 302 کا کیس

لالو نے کہا کہ اس بات کا ہمیں دکھ ہے کہ نتیش نے جاتے جاتے بھی ہمیں بخوبی بدنام کیا ہے۔ یہ وہی نتیش ہیں جنہوں نے سنگھ مکت ہندوستان کیلئے ہم سے ہاتھ ملایا تھا۔ دہلی کی حکومت نے جس کے ساتھ نتیش کا طلاق ہوا تھا تو سی ایم نے کہا تھا کہ میں مٹی میں مل جاؤں گا لیکن ساتھ نہیں جاؤں گا ۔ نتیش کا موقف اب ختم ہو گیا۔ میں نے رات کو بھی ان سے بات کی تھی۔ غلط فہمی کو دور کرنے کی بات کی۔

لالو نے کہا کہ ہم بھی نیا لیڈر منتخب کریں گے۔ ہمیں حکومت کو آگے چلانا ہے۔ لالو نے کہا کہ میں بہار کو صدر راج کی طرف نہیں ڈھكیلنا چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کو دو دنوں کے بعد ایک ایسی میٹنگ کرنی چاہئے جس میں نہ نتیش ہوں نہ تیجسوی اور ایک نیا وزیراعلی منتخب کریں۔ لالو نے کہا کہ میں نے خود نتیش سے بات کی تھی لیکن انہوں نے کبھی استعفی نہیں مانگا تھا۔

لالو نے کہا کہ ہمارا مهاگٹھ بندھن ابھی نہیں ٹوٹا ہے صرف سی ایم نے استعفی دیا ہے۔ تیجسوی سے نتیش نے صرف صفائی مانگی تھی۔ ہم نے کہا کہ لوگوں کے سامنے اگر ہم کیس کو لے کر جائیں گے اور صفائی دیں گے تو اس سے جانچ ایجنسی کو ہمیں کیس میں پھنسانے میں مدد ملے گی۔ لالو نے کہا کہ ہمارے وکلاء نے ہمیں پریس میں نہ بولنے کی ہدایت دی تھی اس کی وجہ سے ہم لوگوں کے سامنے صفائی نہیں دے رہے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز