سپریم کورٹ کے حکم پر لالو کا تبصرہ ، مودی حکومت کی اڈوانی کو صدر جمہوریہ بننے سے روکے جانے کی سازش

Apr 19, 2017 04:10 PM IST | Updated on: Apr 19, 2017 04:10 PM IST

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے بابری مسجد کے انہدام کیس میں آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کے سپریم کورٹ کے حکم پر کہا کہ یہ نریندر مودی حکومت کی 'اڈوانی کو صدر جمہوریہ بننے سے روکے جانے کی سازش ہے۔

مسٹر لالو یادو نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے فورا بعد یہاں اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی ایک خطرناک پارٹی ہے جہاں اپنے پرائے کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اڈوانی کو صدر جمہوریہ بننے سے روکنے کے لیے ہی سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں اس معاملے میں مقدمہ دوبارہ چلائے جانے کی دلیل دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کے ہاتھ میں ہی سی بی آئی ہے، اس لئے اس طرح کی مہم جوئی کے لئے وہ کیا کہہ سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر لالو کا تبصرہ ، مودی حکومت کی اڈوانی کو صدر جمہوریہ بننے سے روکے جانے کی سازش

آر جے ڈی کے صدر نے کہا کہ اس معاملے میں جن کا بھی نام آیا ہے ان سب کے خلاف مقدمہ چلا کر اسے حتمی نتیجہ تک پہنچایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو ہدایت دی ہے کہ دو برسوں کے اندر اس معاملے کا تصفیہ کیا جانا چاہئے۔ مسٹر لالو پرساد یادو نے کہا کہ سال 1990 میں مسٹر اڈوانی نے سومناتھ سے اجودھیا کے لئے رتھ یاترا نکال کر پورے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگاڑنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہی مسٹر اڈوانی کو بہار کے ضلع سمستی پور میں گرفتار كراوايا تھا۔

دوسری جانب، جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو) کے قومی جنرل سکریٹری اور ممبر اسمبلی شیام رجک نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد انہدام کی سازش کرنے والے بےنقاب ہو گئے ہيں۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ایسے لیڈروں کو مرکزی کابینہ سے برطرف کر دیا جانا چاہئے جن کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز