نتیش نے سرجن گھپلے میں جیل جانے سے بچنے کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملایا: لالو

پٹنہ۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے مهاگٹھبندھن کے اتحادی رہنے والے جنتا دل متحدہ (جے ڈی یو) کے قومی صدر اور وزیر اعلی نتیش کمار پر بھاگلپور کی رضاکار تنظیم سرجن میں سرکاری رقم گھپلے کی معلومات ہونے کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں جیل جانے سے بچنے کے لئے صرف مسٹر کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہاتھ ملایا ہے ۔

Aug 21, 2017 09:03 AM IST | Updated on: Aug 21, 2017 09:03 AM IST

پٹنہ۔  راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے صدر لالو پرساد یادو نے مهاگٹھبندھن کے اتحادی رہنے والے جنتا دل متحدہ (جے ڈی یو) کے قومی صدر اور وزیر اعلی نتیش کمار پر بھاگلپور کی رضاکار تنظیم سرجن میں سرکاری رقم گھپلے کی معلومات ہونے کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں جیل جانے سے بچنے کے لئے صرف مسٹر کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ہاتھ ملایا ہے ۔ مسٹر یادو نے یہاں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ جب وہ وزیر اعلی تھے اور ساتھ میں محکمہ خزانہ کا بھی چارج تھا تب چارہ گھپلہ معاملے میں اسی بنیاد پر ان پر مقدمہ چلایا گیا کہ انہیں اس کا علم تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح وزیر اعلی مسٹر کمار کو بھی سرجن گھپلے معاملے میں 25 جولائی 2013 کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور سماجی کارکن سجيت کمار نے خط لکھ کر اطلاع دی تھی۔ سال 2006 سے 2013 تک سرکاری اکاؤنٹ سے غیر قانونی طریقے سرجن کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کرائے جانے کا سلسلہ چلتا رہا اور اس مدت میں مسٹر سشیل کمار مودی وزیر خزانہ تھے۔ اس طرح مسٹر کمار اور مسٹر مودی دونوں کو اس گھپلے کی معلومات تھی اور ان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کی بنیاد ہے۔

آر جے ڈی کے صدر نے کہا کہ 9 ستمبر 2013 کو ریزرو بینک نے بہار حکومت کو خط لکھ کر سرجن سمیتی میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کرانے کو کہا تھا۔ ساتھ ہی اس نے کو-آپریٹو کے رجسٹرار کو بھی ان گڑبڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کو کہا تھا لیکن، وزیر اعلی نے کارروائی کرنا تو دور ریزرو بینک کے شک کو بھی نظر اندزا کرتے ہوئے مسلسل گھپلے بازوں کے ساتھ تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال11۔ 2010 میں کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں سرکاری خزانے میں 11 ہزار سے 12 ہزار کروڑ روپے کی بے ضابطگی ہونے کا ذکر کیا تھا۔ اس کے باوجود وزیر اعلی رہتے ہوئے مسٹر کمار نے خاموشی اختیارکی۔ آر جے ڈی کے صدر نے کہا کہ سال 2013 میں بھاگل پور کے اس وقت ضلع مجسٹریٹ نے سرجن کے معاملے میں شکایت ملنے پر تحقیقات کا حکم دیا تھا، لیکن اس کی تحقیقات کی رپورٹ آج تک نہیں آئی تھی۔ مسٹر کمار کو یہ بتانا چاہئے کیوں کہ تحقیقات کی رپورٹ کو کیوں دبایا گیا تھا اور رپورٹ کو دباکر کس کو فائدہ پہنچایا گیاتھا۔ ساتھ ہی وزیر اعلی نے انکوائری کا حکم دینے والے ضلع مجسٹریٹ کا تبادلہ کردیا تھا؟ انہوں نے اس گھپلے کے لئے وزیر خزانہ سوشیل مودی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2006 سے جاری اسکینڈل میں مسٹر کمار نے 10 سال تک کارروائی نہیں کی۔

نتیش نے سرجن گھپلے میں جیل جانے سے بچنے کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملایا: لالو

لالو یادو، نتیش کمار: فائل فوٹو

مسٹر یادو نے کہا کہ اقتصادی جرائم شاخ نے سرجن گھپلے میں ملوث ریاستی حکومت کے افسر جےشری ٹھاکر سے 7 کروڑ 32 لاکھ روپے ضبط کئے گئے پھر بھی کن کے اشارے شاخ نے پورے معاملات کی جانچ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ سال 2005 کے بعد سے ہوم ڈپارٹمنٹ مسٹر کمار کے پاس رہا ہے۔ انہوں نے اقتصادی جرائم شاخ کی تحقیقات کیوں چھپائی؟ انہوں نے 14 جولائی 2013 کو شائع ہونے والی اخباروں کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے پرنسپل سیکریٹری نے کہا تھا کہ محترمہ ٹھاکر اعلی سطح کی ایک افسر ہیں اور اس وجہ سے انہیں سروس سے برخاست کرنے کا حق وزیر اعلی کو حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مسٹر کمار نے کئی برسوں تک محترمہ ٹھاکر کو برخست کیوں نہیں کیا۔ آر جے ڈی صدر نے اس سوال پر سوال کیا کہ کیوں محترمہ ٹھاکر کی پوسٹنگ صرف بھاگل پور اور بانکا ضلع میں کیوں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل انتظامیہ اور عملہ جات بھی وزیر اعلی کے پاس رہے ہیں اور ان کی رضامندی سےہی محترمہ ٹھاکر کو بانکاپور کےتحویل اراضی افسر ہونے کے ساتھ بھاگل پور کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل بیوروکی تحقیقات (سی بی آئی) سے تحقیقات کی سفارش کرکے وزیر اعلی کسے بیوقوف بنارہے ہیں کیا انہیں ریزرو بینک کے سرکلر سے واقفیت نہیں ہے، جس سے واضح ہے کہ 30 کروڑ روپے سے زائد مالیاتی بے ضابطگیوں کی تحقیقات سی بی آئی کرے گی تو یہ 15 ہزار کروڑ روپے کا ایک بڑاگھپلہ ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز