تیجسوی استعفی نہیں دیں گے، نتیش کو بوجھ لگتا ہے وہ سمجھیں: لالو پرساد یادو

Jul 26, 2017 02:45 PM IST | Updated on: Jul 26, 2017 05:00 PM IST

پٹنہ۔ بہار میں حکمراں مہاگٹھ بندھن کی سب سے بڑی حلیف پارٹی راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے آج دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نائب وزیراعلی تیجسوی یادو استعفی نہیں دیں گے اور مہا گٹھبندھن کی حکومت پانچ برس تک چلے گی لیکن اگر وزیراعلی نتیش کمار کو بوجھ لگتا ہے تو وہ سمجھیں۔ آر جے ڈی صدر نے یہاں ان کی 10سرکلر روڈ پر واقع سرکاری رہائش گاہ پر قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیراعلی اور مہاگٹھ بندھن کے لیڈر نتیش کمار نے نائب وزیراعلی تیجسوی یاد وسے استعفی نہیں مانگا ہے۔ مہاگٹھ بندھن مضبوطی کے ساتھ پانچ  سال تک چلے گا لیکن اگر مسٹر کمار کو بوجھ لگتا ہے تو وہ سمجھیں۔

مسٹر یادو نے کہا کہ مہا گٹھبندھن کے لیڈر نتیش کمار ہیں اور اگر کوئی ان کا احترام نہ کرنے کا جذبہ رکھتا ہے تو اسے قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ نائب وزیراعلی کے استعفی دینے کی جنتا دل (یو) ترجمانوں کی جانب سے کی جا رہی مانگ پر آر جے ڈی صدر نے اپنے خاص انداز میں کہا کہ جنتا دل کوئی پولیس نہیں ہے، مجھے اور تیجسوی کو جہاں بولنا ہوگا وہیں بولیں گے۔

تیجسوی استعفی نہیں دیں گے، نتیش کو بوجھ لگتا ہے وہ سمجھیں: لالو پرساد یادو

 لالو پرساد یادو نے نائب وزیراعلی کے عوام کے درمیان جا کر لگے الزامات پر صفائی دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی مسٹر کمار نے کبھی بھی مسٹر یادو سے استعفی کے سلسلہ میں بات چیت نہیں کی۔ مہاگٹھبندھن میں کوئی درار نہیں ہے ، یہ سب میڈیا کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنتادل یو اور آر جے ڈی پور ی طرح سے ساتھ ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کے منہ سے لار ٹپک رہی ہے کہ کیسے وہ اقتدار میں آئے۔ مسٹر یادو نے کہا کہ بہت محنت اور کوششوں سے مہا گٹھ بندھن بنا ہے اور مسٹر کمار کو وزیراعلی کے عہدہ پر بٹھایا گیا ہے ۔ مسٹر کمار نے بھی واضح طورپر کہا ہے کہ انہیں پانچ برس کے لئے عوامی تائید ملی ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مہاگٹھبندھن حکومت کے پانچ برس تک کامیابی کے ساتھ کام کرنے میں آرجے ڈی کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

وہیں آر جے ڈی قانون ساز پارٹی کی لیڈر اور سابق وزیراعلی رابڑی دیوی نے بھی صاف الفاظ میں کہا کہ کسی کے کہنے پر نائب وزیراعلی استفعی نہیں دیں گے۔ اس درمیان نائب وزیراعلی نے ان پر لگے الزامات کو سرے سے خارج کرتے ہوئے کہا کہ ان سے اب تک وزیراعلی نے استعفی نہیں مانگا ہے۔ اس معاملے میں وہ بار بار صفائی نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتحاد کو توڑنے کی سازش کررہی ہے۔ نائب وزیراعلی نے کہا کہ ہماری پارٹی کے زیادہ (80) اراکین اسمبلی ہونے کے باوجود ہم نے مسٹر کمار کو وزیراعلی بنایا۔ ہم نے کبھی بھی انتظامی کاموں میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی ہماری جانب سے حکومت پر کوئی دباؤ بنایا گیا۔ جنتادل یو ترجمانوں کی بیان بازی کے باوجود ہم خاموش رہے۔ انہوں نے سوالیہ لہجہ میں کہا کہ کوئی بھی اپنے مہاگٹھ بندھن کی شبیہ کو کیوں خراب کرے گا۔ انہوں نے بی جے پی لیڈر سشیل کمار مودی کو سازش تیارکرنے والا بتایا اور کہا کہ وہ خود تو بہارکے باشندہ نہیں ہیں اور ریاست کی شبیہ خراب کرنے میں مصروف ہیں۔

آر جے ڈی صدر نے کہا کہ قانون ساز پارٹی کی لیڈر محترمہ رابڑی دیوی کی صدارت میں میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 28جولائی سے شروع ہونے والے اسمبلی کے مانسون اجلاس میں محترمہ رابڑی دیوی اور اسمبلی میں لیجس لیچر پارٹی کے لیڈرتیجسوی پرساد یاد و کی قیادت میں سرگرم رہ کر حکومت کے ہر قدم کی حمایت کرتے ہوئے مہاگٹھ بندھن کو مضبوطی فراہم کرکے عوامی مفاد کے کاموں میں تعاون کریں گے۔ میٹنگ میں آرجے ڈی صدر یادو، سابق رکن پارلیمنٹ جگدانند سنگھ، ریاستی صدر رام چندر پورے، مہاگٹھبندھن حکومت میں آر جے ڈی کے کوٹہ کے تمام وزرا،اراکین اسمبلی اور ایم ایل سی موجود تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز