بنگال بورڈ کے مدھیامک کے نتائج عام، 68 ٹاپ ٹین طلباء میں مسلم طلباء کی تعداد محض پانچ

May 27, 2017 07:05 PM IST | Updated on: May 31, 2017 04:34 PM IST

کلکتہ۔ مغربی بنگال بورڈ آف سیکنڈری نے آج مدھیامک (دسویں جماعت) کے نتائج کا اعلان کردیا ہے ۔بانکوڑہ کی رہنے والی اور انویشا پیانے میں 690نمبرات پہلی پوزیشن حاصل کی ہے ۔اس سال مغربی بنگا ل سیکنڈری بورڈ کے نتائج میں کل 68طلباء ٹاپ ٹین میں شامل ہیں جس میں محض پانچ طلبا ء ہی مسلم ہے اور ان میں سے کوئی بھی اردو میڈیم اسکول کا طالب علم نہیں ہے۔ جب کہ دوسری پوزین بانکوڑہ کے رہنے والے مزمل الحق اور انیربن کھنارا نے 689نمبر کے ساتھ دوسری پوزیشن حاصل کی ہے ۔اسی طرح دیپتیش پال نے 688نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ہے ۔

پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی انویشا پیانے نے یون این آئی کو فون پر بتایاکہ انہیں ہرکز امید نہیں تھی کہ وہ پہلی پوزیشن حاصل کرے گی۔اس نے اپنی کامیابی کو اپنے دادا جن کا چند دن قبل ہی انتقال ہوگیا ہے کے نام کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔پڑھنے کے علاوہ پیانے گانا ، ڈانس اور کلچرل پروگرام میں حصہ لینے کا بھی ذوق ہے۔ پانچ مسلم طلباء جو ٹاپ ٹین میں شامل ہیں ان میں سے مزمل حق جو بانکوڑہ کے رہنے والے ہیں اور ضلع اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔بقیہ چار طلباء میں معصوم اختر جو جنوبی 24پرگنہ کے کاکدیپ کے رہنے والے ہیں نے چوتھی پوزیشن حاصل کی ہے۔ہوڑہ کے محمد سایان شفق نے 8پوزیشن حاصل کی ہے ۔یہ ہوڑہ کے رہنے والے ہیں ۔بردوان ضلع کے شیخ آفریدی ،جنوبی 24پرگنہ کے عبدالحکیم خان نے دسویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

بنگال بورڈ کے مدھیامک کے نتائج عام، 68 ٹاپ ٹین طلباء میں مسلم طلباء کی تعداد محض پانچ

خیال رہے کہ کلکتہ، ہوڑہ،ہگلی ، شمالی 24پرگنہ، آسنسول اور اسلام پور میں اردو میڈیم اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے جو ہرسال مدھیامک امتحان میں شرکت کرتے ہیں ۔کلکتہ شہر میں مشہور اردو میڈیم اسکول محمد جان ہائی اسکول سے اس سال 107طلباء نے مدھیامک امتحان میں شرکت کی تھی جس میں سے کامیابی کی شرح صد فیصد رہی۔اس میں سے 29طلباء نے فرسٹ ڈویژن حاصل کیا ہے جب کہ 72طلباء سیکنڈ ڈویژن نمبر حاصل کیا ہے ۔باقی طلباء نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ محمد جان ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر عالمگیر نے یو این آئی سے بات کرتے بتایا کہ اردو اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء کے بنگال سطح پر ٹاپ نہیں کرنے کی کئی وجوہات ہیں ۔ایک تو یہ کہ زیادہ تراردو اسکولوں میں زیر تعلیم طلباء کا تعلق بہت ہی غریب گھرانے سے ہونے کی وجہ سے وہ تعلیم پر زیادہ فوکس نہیں دے پاتے ہیں ۔دوسرے یہ کہ اردو میں معیاری نصابی کتابیں موجود نہیں ہے ۔اس کی وجہ سے بھی اردو میڈیم اسکولوں کے طلباء پوزیشن حاصل نہیں پاتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز