ممتا نے ذبیحہ کیلئے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی کے فیصلہ کو بتایا غیر آئینی ، بنگال میں نہیں ہوگا نافذ

May 29, 2017 08:29 PM IST | Updated on: May 29, 2017 08:30 PM IST

کلکتہ: مرکزی حکومت کے ذریعہ ذبیحہ کیلئے گائے، بیل ، بھینس اور بچھڑے کی خرید و فروحت پرپابندی عاید کیے جانے کی سخت تنقید کرتے ہوئے وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا ہے کہ بنگال حکومت اس فیصلے کو نافذ نہیں کرے گی ۔

کلکتہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ مرکزی حکومت کا فیصلہ غیر آئینی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنگال حکومت کبھی بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے اس فیصلے سے ملک کے وفاقی ڈھانچہ کو شدید نقصان پہنچے گا ۔مودی حکومت نے براہ راست فیڈرل اسٹریکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔

ممتا نے ذبیحہ کیلئے جانوروں کی خرید و فروخت پر پابندی کے فیصلہ کو بتایا غیر آئینی ، بنگال میں نہیں ہوگا نافذ

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ غیر ضروری طور پر مرکزی حکومت کے ذریعہ ریاست کے حقوق میں دخل اندازی کی گئی ہے ۔ممتا بنرجی نے کہا کہ آئین کے ساتویں شیڈول کے مطابق مرکز ی حکومت کو ریاست کے معاملات میں دخل اندازی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ہم اس ہدایت کو آئینی طور پر چیلنج کریں گے ۔

مرکزی وزارت ماحولیات ہرش وردھن نے ہفتہ کو کہاتھا کہ ہم نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق جانوروں کو ذبیحہ کیلئے خرید و فروخت نہیں کرسکتے ہیں ۔وردھن نے کہا تھا کہ اس کا مقصد جانوروں کے حقوق کی حفاظت کرنی ہے ۔اس رول سے مقامی سطح پر جانوروں کی نگرانی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ خریدنے اور فروخت کرنے والوں کو وضاحت دینی ہوگی۔

مرکزی حکومت کے اس فیصلہ کے بعد کسانوں اورگوشت انڈسٹری اور چمڑہ انڈسٹری کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔بنگا ل میں چوں کہ چمڑے کی انڈسٹری کی ایک بڑی تعداد ہے ۔13,000کروڑ کا مالیت کا سالانہ کارو بار ہوتا ہے ۔گوشت و چمڑہ انڈسٹری سے کل 10لاکھ کے قریب افراد جوڑے ہوئے ہیں ۔مرکزی حکومت کے اس فیصلہ سے ان لوگوں کے بے ر وزگار ہونے کا خطرہ ہوگیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز