مغربی بنگال میں ہندواورمسلمانوں کو تقسیم کرنے کی آرایس ایس کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی: ممتا

Apr 04, 2017 08:47 AM IST | Updated on: Apr 04, 2017 08:47 AM IST

کلکتہ ۔ مغربی بنگال میں آر ایس ایس کی جانب سے رام نومی کی تقریبات بڑے پیمانے پر منانے کے اعلان پر براہ راست تبصرہ سے گریز کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے  کہا ہے کہ وہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کو برداشت نہیں کریں گی۔ مغربی مدنی پور کے کھڑکپور میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال میں ہندو اور مسلمان مل جل کر ساتھ رہتے ہیں ۔اس لیے رام نومی کی تقریبات کو کسی بھی مذہب کے ماننے والے کے خلاف بھڑکانے کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کسانوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے کہا کہ زرعی زمینوں پر رینیو جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کی وجہ سے ریاست کے خزانے پر 120کروڑ سے 200کروڑ تک کا بوجھ بڑھے گا ۔مگر کسانوں کے فائدے کیلئے اس اسکیم کو نافذ کیا جائے گا ۔

کھڑکپور اسمبلی حلقہ جہاں سے بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش کامیاب ہوئے ہیں ۔میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ زعفرانی پارٹی صرف فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔مگر میں آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ ان کے بہکاوے میں نہ آئیں اور رام نومی کی تقریبات کو پرامن انداز میں منائیں ۔ بی جے پی پر مذہب کے نام پر سیاست کرنے اور فرقہ واریت کا کار ڈ کھیلنے کا الزام عاید کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک پر یقین رکھتی ہیں ۔کسی ایک خاص مذہب کو دوسرے مذہب پر ترجیح دینا یا پھر اس کے نام پر سیاست کرنا یہ زعفرانی پارٹی کا شیوہ ہے ۔ہم لوگ تمام مذاہب کے خوشیوں اور تہواروں کے موقع پر شریک ہوتے ہیں ۔بنگال میں فرقہ پرستی کی سیاست اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنے کی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔اگر کوئی شخص فسادات کرانے کی کوشش کرے گا توحکومت سخت کارروائی کرے گی۔

مغربی بنگال میں ہندواورمسلمانوں کو تقسیم کرنے کی آرایس ایس کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی: ممتا

ممتا بنرجی: فائل فوٹو

ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بنگال میں جاری ترقیاتی پروجیکٹوں کیلئے مرکز فنڈ نہیں دے رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فاسٹ ٹریک کورٹ ، گھٹال ماسٹر پلان جیسی اسکیموں کیلئے فنڈ نہیں دیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بنگال کو دانستہ طور پر محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر یہ لوگ زیادہ دنوں تک ایسا نہیں کرسکیں گے اور ہم ترقیاتی کام جاری رکھیں گے اور وہ دن آئیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز