مغربی بنگال : اکھل بھارتی شکشا سنستھان کے زیر انتظام اسکولوں میں متنازع نصاب ، ممتا حکومت نے جاری کیا نوٹس

Mar 16, 2017 10:49 PM IST | Updated on: Mar 16, 2017 10:49 PM IST

کولکاتہ : اکھل بھارتی شکشا سنستھان کے زیر انتظام اسکولوں میں مسلم تہواروں پر چھٹّی نہ دینے کا معاملہ مغربی بنگال میں ان دنوں گرمایا ہوا ہے۔ ان اسکولوں سے وابستہ اساتذہ نے انتظامیہ کو اس معاملہ پر توجہ دینے کی ضرورت پرزور دیا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں اس طرح کے 200 سے زائد غیر سرکاری اسکولوں کے نصاب پر حکومت نے سوال اٹھائے ہیں ۔

مغربی بنگال میں پہلی مرتبہ حکومت نے 200 سے زائد غیر سرکاری اسکولوں کےنصاب کو متنازع قرار دیتے ہوئے پہلے مرحلے میں 25 اسکولوں کو نوٹس بھیج کر نصاب جمع کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ رواں اسمبلی سیشن میں اس بابت بل بھی پیش کیے گئے ہیں ۔ حکومت نے بیشتراسکولوں کے نصاب میں مذہبی منافرت گہرا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان اسکولوں کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیا ہے ۔

مغربی بنگال : اکھل بھارتی شکشا سنستھان کے زیر انتظام اسکولوں میں متنازع نصاب ، ممتا حکومت نے جاری کیا نوٹس

ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ ادریس علی نےحکومت کے اس فیصلہ کو اہم قرار دیتے ہوئے اس طرح کے اسکولوں کے خلاف اقدامات کو ضروری بتایا۔ وہیں بی جے پی کے ممبر اسمبلی اوریاستی صدردلیپ گھوش نے حکومت پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مدارس و مشینری اسکولوں کے بجائے اکھل بھارتیہ شکشا سنستھان سے وابستہ اسکولوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اکھل بھارتیہ شکشا سنستھان کے تحت ملک بھر میں30 ہزار اسکول چلائے جاتے ہیں ۔ مغربی بنگال میں اس کی تعداد 312 ہے ۔ ان اسکولوں سے وابستہ اساتذہ نے حکومت کے فیصلہ کو افسوسناک بتاتے ہوئے کہا کے ان اسکولوں میں اقلیتی طلبہ بھی زیر تعلیم ہیں، جو اسکول کے روایت کے مطابق سرسوتی وندنا و گیتا پاٹھ بھی کرتے ہیں ۔ تاہم اساتذہ نےان اسکولوں میں مسلم تہواروں میں چھٹّی نہ دینا ، اس کی وجہ بتائی ۔

ہاوڑہ کے اسکول میں ٹیچر انل کمار کا کہنا ہے کہ میں آر ایس ایس کا حمایتی ہوں لیکن ششو مندر ششو مندر ہے۔ یہاں اقلیتی طلبہ بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہ سبھی سرسوتی وندنا و گیتا پاٹھ کرتے ہیں ، ہرپروگرام میں حصّہ لیتے ہیں ، اس کے باوجود ہم مسلم تہواروں میں چھٹّی نہیں دیتے ۔ مسلم تہواروں میں چھٹّی دینی ہوگی ۔ یہ سیاست ہورہی ہے ۔ اگرعمل کیا گیا ، تو تعلیم کا نقصان ہوگا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز