بی جے پی اور کانگریس دونوں میں سے کوئی بھی اب تنہا مرکز میں حکومت سازی نہیں کرسکے گی :ممتا بنرجی

May 11, 2018 08:12 PM IST | Updated on: May 11, 2018 08:12 PM IST

 

کلکتہ: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے آج کہا ہے کہ علاقائی سیاسی جماعتوں کو نظر انداز کرکے بی جے پی یا پھر کانگریس دونوں میں یہ سمجھتی کچھ کرلیں گی تو یہ اب ممکن نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی میں اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں آئے گی اور کانگریس کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

بی جے پی اور کانگریس دونوں میں سے کوئی بھی اب تنہا مرکز میں حکومت سازی نہیں کرسکے گی :ممتا بنرجی

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ کرناٹک، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو خراب نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔بی جے پی کی پالیسیوں سے عوام متفق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں قومی سیاست کو اچھی طرح سے سمجھتی ہوں اور اس وقت تمام علاقائی سیاسی جماعتوں کو بی جے پی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ساتھ ہی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کا ایجنڈا کام نہیں کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا ہ بی جے پی کے فرقہ واریت کے خلاف کانگریس اور سی پی ایم بالکل خاموش بنی ہوئی ہے ۔

وزیرا علیٰ نے کہا کہ سی پی ایم اور بی جے پی کے آئیڈیولوجی میں بہت ہی فرق ہے مگر اس کے باوجود یہ دونوں جماعتیں میرے خلاف متحد ہوگئی ہیں اور پروپیگنڈے کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس کانام جمہوریت نہیں ہے ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجھے خبر ملی کہ مرشدآباد میں بی جے پی کے خوف سے کئی گاؤں کے لوگ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں میں نے کانگریس اور سی پی ایم کے امیدواروں کی مدد کرکے پرچہ نامزدگی داخل کرایا مگر یہ لوگ مجھے گالی دے رہے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی بنگال میں لاکھوں روپے بہا رہی ہے ۔لوگوں کو اسمارٹ فون دینے کی لالچ دی جارہی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگال میں پنچایت انتخابات کے دوران تشدد کی تاریخ رہی ہے مگر اس کے باوجود کانگریس، سی پی ایم اور بی جے پی مل کر میری حکومت کو بدنام کررہے ہیں ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ ہتھیاروں کی نمائش کررہے ہیں اورجھار کھنڈ سے لوگوں کو بلاکر آسنسول اور رانی گنج میں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

پنچایت انتخابات کو لے کر عدالتی کارروائیوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ کچھ ایسے واقعات ہوتے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا پڑتا ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنا کام کرے اور عدالت اپنا کام کرتی ہے۔

وزیرا علیٰ نے کہا کہ اپوزیشن بالخصوص بی جے پی کے لیڈران میرے خلاف ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے۔ہم بنگالی ہیں جو امن اور ترقی میں یقین رکھتے ہیں اور اسی نہج پر کام کرتے رہیں گے۔

وزیرا علیٰ نے کہا کہ بنگال کی اپوزیشن جماعتوں کی کوئی آئیڈیولوجی نہیں ہے ۔وزیرا علیٰ نے کہا کہ میرا اتحاد عوام کے ساتھ ہے اور عوام پر مجھے پورا بھروسہ ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگال میں جاری تشدد میں بی جے پی لیڈروں کا ہاتھ ہے۔وزیر اعلیٰ نے بھانگر میں جاری ہنگامہ آرائی پر کہا کہ مجھے معلوم ہواہے اور اس پر کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز