کولکاتہ کے مینگو فیسٹیول میں مرشد آباد کے آموں کی دھوم

Jun 19, 2017 04:38 PM IST | Updated on: Jun 19, 2017 04:38 PM IST

کولکاتہ ۔ مغربی بنگال کا مالدہ و مرشدآباد جہاں گرمی کی شدت سے تپ رہا ہے وہیں ان اضلاع میں اس سال ہوئی آم کی پیداوار نے نہ صرف مالدہ و مرشدآباد بلکہ پورے بنگال کے لوگوں کے چہروں میں خوشیاں بکھیر دی ہیں۔  پھلوں کے راجہ آم اور وہ بھی مرشدآباد کے آم دنیا بھرمیں مقبول ہیں ۔ کولکاتہ کے آم میلے میں بھی مرشدآباد کے آم توجہ کا مرکز رہے۔ آم کو پھلوں میں برتری حاصل ہے ۔ پھلوں کا راجہ کہلانے والے آم ہرعمر کے لوگوں کی خاص پسند ہے ۔ خاص کر بنگال کے لوگ مچھلی و  آم کے بیحد شوقین ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کولکاتا کے ملن میلہ گراؤنڈ میں لگے مینگو اتسو میں لوگوں کی خاصی بھیڑ دیکھی گئی ۔ یہاں مختلف طرح کے  آم کی خریداری میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔

مرشدآباد آم و لیچی کی فصل کے لئے جانا جاتا ہے ۔ نوابوں کی نگری مرشدآباد میں آم نوابوں کی دین سمجھی جاتی ہے ۔ یہاں کم و بیش 200 طرح کے آم کی فصل ہوتی تھی تاہم یہ ختم ہوتے ہوتے اب صرف لگ بھگ 40 طرح کے اقسام تک رہ گئی ہے جو نہ صرف ملک و بیرون ملکوں میں بھی مقبول ہیں ۔  لیکن  یہاں کے آم کاروباری مالی طور پر مضبوط نہیں ہیں ۔آموں کی مقبولیت کے پیش نظر یہاں کے آموں کو بیرونی ملکوں میں بھیجا جا رہا ہے ۔ آم کے کاشتکاروں نے آم میلہ میں لوگوں کے ریسپانس کو اہم بتاتے ہوئے بیرونی ملکوں میں آم و لیچی بھیجے جانے کی کوشش کو مستقبل کے لئے کارآمد بتایا ۔ مینگو فیسٹیول میں مختلف طرح کے آموں کے ساتھ اس سے بنے آئس کریم و مٹھایئاں بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں ۔

کولکاتہ کے مینگو فیسٹیول میں مرشد آباد کے آموں کی دھوم

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز