منی پور اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 80 فیصد سے زیادہ پولنگ

Mar 04, 2017 09:49 AM IST | Updated on: Mar 04, 2017 07:38 PM IST

امپھال۔ منی پور اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 38 سیٹوں کے لئے آج 80 فیصد سے زیادہ پولنگ ہوئی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پولنگ پر امن ہوا۔ ووٹنگ فیصد 80 سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔ پولنگ مراکز پر طے ڈیڈ لائن کے بعد بھی ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ جن ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لئے ٹوکن دیا گیا ہے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل دوپہر ایک بجے تک 69 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق تھانگ مئی بانڈ سے پی آر جے اے کے امیدوار لئی چومبام ارندرو کے ساتھ کچھ لوگوں نے مارپیٹ کی۔ اس معاملے میں کچھ مشتبہ افراد کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔كھراري، سنگجامئي اور تھونگ جو میں ہلکی جھڑپ کی اطلاع ملی اور کچھ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے کام نہیں کرنے کی بھی خبر ہے۔ اس کے علاوہ پولنگ پرامن طریقے سے اختتام پزیر ہوا۔ آج کی پولنگ میں کل 168 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ اس میں بی جے پی کے 38، کانگریس کے 37، سی پی آئی کے چار، سی پی ایم کے دو اور 14 آزاد امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔

منی پور اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 80 فیصد سے زیادہ پولنگ

اس مرحلے میں اہم امیدواروں میں وزیر اعلی اوابوبي سنگھ کے بھانجے اوكھرام ہنری، اسمبلی صدر ٹی لوكیشور سنگھ، وزیر آئی ہیم چندر سنگھ، گوونداس كونتھوؤجام ،کے رتن كمار سنگھ اور ٹی مانگا وائی فئی، منی پور کانگریس صدر ٹی این هاؤكپ، سابق وزیرپھنگ جا تھانگ ٹون سنگ اور وائی ارابوت سنگھ اور بی جے پی لیڈر ٹی چاؤبا سنگھ شامل تھے۔

پولنگ مراکز کی حفاظت کے لئے سیکورٹی فورسز کی 250 کمپنیاں تعینات کی گئی تھیں۔ متعدد مراکز پر پانچ افسران کی تعیناتی کی گئی تھی۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ آٹھ مارچ کو ہوگی جس میں 22 اسمبلی حلقوں کے 98 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ ووٹوں کی گنتی 11 مارچ کو ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز