خاتون صحافی گوری لنکیش کا قتل بہیمانہ ، آزادی رائے کا گلا گھونٹا جارہا ہے : مولانا اسرار الحق قاسمی

Sep 09, 2017 10:15 AM IST | Updated on: Sep 09, 2017 10:15 AM IST

کشن گنج : مولانااسرارالحق قاسمی نے ٹھاکرگنج میں سیلاب متاثرہ علاقے کے جائزہ کے دوران بنگلورکی مشہور خاتون صحافی گوری لنکیش کے قتل سے متعلق صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ یہ ایک بہیمانہ قتل ہے اور اس کی صرف مذمت کرناکافی نہیں بلکہ جتنی جلد ہوسکے مجرموں کوپکڑکرسخت سے سخت سزادی جانی چاہئے۔ مولاناقاسمی نے کہاکہ گوری لنکیش ایک محنتی اور ایمانداری صحافی تھیں اور انہوں نے اپنے صحافتی کریئرمیں کسی بھی موڑپر اپنے نظریہ واصول سے سمجھوتہ نہیں کیا، حالیہ دنوں میں مخصوص فرقہ پرست طاقتوں کے ذریعے ملک کی یکجہتی اورامن وامان کو مخدوش کئے جانے کے وہ سخت خلاف تھیں اور انہوں نے اپنے میگزین میں اس کے خلاف مسلسل لکھا،جس کی وجہ سے فرقہ پرست عناصر ان کی جان کے دشمن ہوگئے تھے اور انہیں مسلسل دھمکیاں دی جارہی تھیں۔

انہوں نے کہاکہ اگر چہ ابھی یہ صاف نہیں ہواہے کہ گوری لنکیش کوقتل کرنے والے کون لوگ ہیں مگر جس طرح سنگھ اور بی جے پی سے وابستہ بعض افراد ان کی موت پر جشن منارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ خوشی کا اظہار کیاجارہاہے،اس سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ اس ملک میں بولنے یالکھنے اور سوچنے کی آزادی خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پورے ملک کے باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرناک رجحان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور نظریاتی شدت پسندی کا ہرطرح سے مقابلہ کریں۔مولاناقاسمی نے بہارسیلاب کے تئیں حکومت کی لاپروائی وبے توجہی پر بھی سخت نکتہ چینی کی اورکہاکہ نہ توصوبائی حکومت سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے لئے ٹھوس اقدامات کررہی ہے اورنہ مرکزی حکومت نے کچھ کیاہے۔

خاتون صحافی گوری لنکیش کا قتل بہیمانہ ، آزادی رائے کا گلا گھونٹا جارہا ہے : مولانا اسرار الحق قاسمی

فائل فوٹو

انہوں نے کہاکہ اس وقت بھی سیمانچل کے بہت سے سیلاب زدہ علاقے ایسے ہیں جہاں کوئی سرکاری امداد نہیں پہنچی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے ان تمام سماجی و رفاہی اداروں کا شکریہ اداکیاجنہوں نے ان کی اپیل پر سیمانچل کے سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف وامداد تقسیم کاکام کیا اور لوگوں کوکچھ راحت ملی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز