لو جہاد کے نام پر مسلم نوجوان کے قتل پر مولانااسرارالحق قاسمی کا شدید ردعمل فرقہ پرست عناصر ملک کو توڑنے کیلئے کوشاں

اس وقت وطن عزیز کی صورت حال نہایت نازک اور تشویشناک دور سے گزررہی ہے اور اگر ملک کے باشعور ،سنجیدہ شہریوں نے اس پر توجہ نہیں دی تو اندیشہ ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کی بنیادیں ہلادی جائیں گی۔

Dec 08, 2017 08:06 PM IST | Updated on: Dec 08, 2017 08:06 PM IST

کشن گنج : اس وقت وطن عزیز کی صورت حال نہایت نازک اور تشویشناک دور سے گزررہی ہے اور اگر ملک کے باشعور ،سنجیدہ شہریوں نے اس پر توجہ نہیں دی تو اندیشہ ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت کی بنیادیں ہلادی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہارممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کشن گنج کے دورے کے دوران ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہزاروں سال سے مختلف مذاہب اور فرقہ کے لوگ رہتے آئے ہیں مگر آج مٹھی بھر فرقہ پرسر عناصراس ملک کے مشترکہ کلچر کو برباد کردینا چاہتے ہیں۔

مولانا نے کہا کہ ابھی محض دوتین دن کے اندر لوجہاد،گؤرکشا وغیرہ کے نام پر کم ازکم تین ایسے واقعات ہوئے ہیں جنہوں نے حساس ہندوستانیوں کو ہلاکر رکھ دیاہے،راجستھان میں ایک شخص جس طرح بنگال کے ایک مسلمان مزدور کو نہایت بے رحمی قتل کرتاہے اور پھر اسے پٹرول چھڑک کرجلادیتا ہے اور باقاعدہ اس کا ویڈیوبناتا ہے اور پورے ملک کے کروڑوں شہریوں کو نفرت و دشمنی کا پیغام دینا چاہتا ہے۔ یہ واقعہ فی نفسہ اتنا دل دوز ہے کہ کوئی شخص اسے دیکھنے اور سننے کی بھی ہمت نہیں کرسکتا۔

لو جہاد کے نام پر مسلم نوجوان کے قتل پر مولانااسرارالحق قاسمی کا شدید ردعمل فرقہ پرست عناصر ملک کو توڑنے کیلئے کوشاں

اسی طرح راجستھان ہی کے الورمیں پھر ایک مسلمان کو گائے اسمگلنگ کے نام پر ماردیاگیاہے،نفرت کی یہ آگ اب بہ تدریج بہار کی پر امن ریاست تک بھی پہنچ رہی ہے اور دہلی سے بھاگلپور آنے والی ٹرین میں ایک حافظ قرآن کے ساتھ بہار میں دست درازی کی گئی،گالی گلوچ کیاگیا اور اسے مارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مولانا قاسمی نے ان واقعات کے حوالے سے پورے ملک کے شہریوں سے سوال کیاہے کہ آخر ہندوستان کی اجتماعی ذہنیت کس طرف جارہی ہے اور ہم اس ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہ رہے ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے یہ حالات ان سیاست دانوں اور میڈیاچینلوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جو اپنے اپنے مفاد حاصل کرنے کے لئے رات دن مذہبی منافرت پر مبنی بیانات دیتے اور انہیں نشر کرتے رہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان کی جمہوری روح کو برقراررکھنا ہے اور ملک کو حقیقی ترقی و خوشحالی کی سمت میں آگے لے جانا ہے تو اس قسم کی نفرت انگیز حرکتوں سے بازآنا ہوگا ورنہ ہمارے ملک کو برباد ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچا سکتی۔

مولانا قاسمی نے گجرات کے انتخابی مہم میں بی جے پی کی جانب سے جس طرح ترقی کے ایشوکو نظرانداز کرکے فرقہ وارانہ بیانات دیے گئے بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ اور انوراگ ٹھاکر وغیرہ نے جس طرح کھل کر بابری مسجد شہادت کے واقعے کو فخریہ بیان کیا اور ہندوؤں کو ورغلانے کی کوشش کی اس سے یہ واضح ہوگیاہے کہ بی جے پی کے پاس عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے کوئی ایجنڈہ نہیں ہے اور وہ محض مذہبی منافرت کو بنیاد بناکر انتخابی میدان سرکرنا چاہتی ہے۔

مولانا قاسمی نے عالمی سیاست کے بدلتے منظرنامہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونالڈٹرمپ نے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطین کے شہر القدس کو اسرائیلی راجدھانی تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس نے ساری دنیاکے مسلمانوں کو سخت تشویش میں مبتلا کردیاہے اور اندیشہ ہے کہ پورے خطے میں اس فیصلے کے بعد بدامنی و بے اطمینانی کی نئی لہر دوڑ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ القدس سے مسلمانوں کا تاریخی تعلق ہی نہیں بلکہ ان کے عقائد کے ایک حصے کا بھی اس شہر سے تعلق ہے اور وہ کبھی بھی اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے،لہذا امریکہ کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہئے اور ساری دنیا کے انصاف پسند لیڈران اور سربراہانِ مملکت کو کھل کر ٹرمپ کی اس احمقانہ حرکت کی مخالفت کرنی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز