لو جہاد جیسی فرضی اصطلاح فرقہ پرست سیاست دانوں کی دین: اسرارالحق قاسمی

Dec 12, 2017 06:30 PM IST | Updated on: Dec 12, 2017 06:30 PM IST

نئی دہلی۔ لوجہاد جیسی کوئی بھی چیز ہندوستان میں نہیں پائی جاتی،البتہ بعض سیاست داں اور فرقہ پرست سیاسی جماعتیں اس قسم کی افواہیں پھیلاکر عوام کوگمراہ کرکے ملک کو بانٹنے اور شہریوں کے درمیان مسلسل نفرت کا بیج بونے میں مصرو ف ہیں جس کے خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی نے کشن گنج کے دورہ کرنے کے دوران اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولرا سٹیٹ ہے جہاں ہر فرد کو اجازت ہے کہ وہ کیاکھائے ،کیا پہنے اور کس طرح زندگی گزارے،جو لوگ لوجہاد جیسی فرضی اصطلاح گڑھ کے ملک کی جمہوریت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور عوام کوان کے بنیادی حقوق سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔

مولانا قاسمی نے قومی میڈیا پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی افواہیں پھیلانے میں مین اسٹریم میڈیا کا بھی بڑا ہاتھ رہا ہے۔ جہاں رات دن لوجہاد اور گؤرکشا جیسے موضوعات پر گھنٹوں گھنٹوں بحث و مباحثہ کروایا جاتا ہے اور ہمارے ملک کا نوجوان اسے دیکھ دیکھ کر اپنے ذہن میں دوسرے مذہب کے لوگوں کے تئیں نفرت کے جذبات پیدا کرلیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ راجستھان کے راجسمندمیں افرازل خان نامی بنگالی مزدور کا وحشیانہ قتل ہویا اس سے پہلے اخلاق،پہلوخان اور جنید وغیرہ کی موتیں سب اسی زہر کا نتیجہ ہیں جسے اس ملک کے بہت سے انتہاپسند سیاست داں اور دسیوں نیوز چینلس رات دن لوگوں کے دل دماغ میں انڈیل رہے ہیں۔

لو جہاد جیسی فرضی اصطلاح فرقہ پرست سیاست دانوں کی دین: اسرارالحق قاسمی

معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی: فائل فوٹو۔

مولانا قاسمی نے ملک کے دانش مند اور باشعور شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی افواہوں سے دور رہیں ، ایسے سیاست دانوں کا بائیکاٹ کریں جوفرضی بنیادوں پر لوگوں کے جذبات کومشتعل کرتے ہیں، اسی طرح ان نیوز چینلوں کا بھی بائیکاٹ کیا جانا چاہئے جو رات دن ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے ذہن میں نفرت کا زہر گھول رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ آرایس ایس اور وشوہندوپریشد جیسی تنظیمیں مسلسل قومی ہم آہنگی کو بگاڑنے کے لئے سازشیں رچنے میں مصروف ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندوستان کا بہت بڑا طبقہ بے یقینی اور خوف کی نفسیات میں جینے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک نہایت نازک موڑ پر پہنچ چکاہے۔ تمام جمہوریت پسند عوام کو ایک جٹ ہوکر فرقہ پرست طاقتوں کے مقابلہ اور ملک کی جمہوریت کے تحفظ کے لئے سامنے آنا چاہئے،ورنہ آئندہ ملکی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کی رفتار دسیوں سال پیچھے چلی جائے گی اور عالمی سطح پر ہندوستان کا وقارواعتبار مجروح ہوکر رہ جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز