حکومت جان بوجھ کر اقلیتی ہاسٹل کو کر رہی نظرانداز: مولانا ولی رحمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے اقلیتی ہاسٹل کو نظرانداز کرنے کا حکومت پر الزام لگایا ہے۔

Oct 23, 2017 07:41 PM IST | Updated on: Oct 23, 2017 07:41 PM IST

پٹنہ۔  بہارمیں اقلیتی ہاسٹل کا مدعا ایک بار پھر سے سرخیوں میں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے اقلیتی ہاسٹل کو نظرانداز کرنے کا حکومت پر الزام لگایا ہے۔ وہیں اپوزیشن نے بھی اس تعلق سے حکومت پر سوال کھڑا کیا ہے جبکہ محکمہ اقلیتی فلاح ہاسٹل کے متعلق لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد بتا رہا ہے۔

بہار کے سبھی ضلعوں میں اقلیتی ہاسٹل کے قیام کا فیصلہ گزشتہ 17 سال پہلے کیا گیا تھا۔ کئی بار یہ معاملہ انتخابی مدعا بھی بنا لیکن آج بھی ہاسٹل کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے۔ دراصل جن ضلعوں میں ہاسٹل کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے وہاں بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ کئی ایسے ضلع ہیں جہاں آج بھی ہاسٹل کا قیام ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ اس معاملے پر اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

حکومت جان بوجھ کر اقلیتی ہاسٹل کو کر رہی نظرانداز: مولانا ولی رحمانی

مولانا ولی رحمانی، جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

ادھر محکمہ اقلیتی فلاح کا دعویٰ ہیکہ اقلیتی ہاسٹل میں تمام سہولتیں فراہم کرائی جا رہی ہیں۔ محکمہ کے وزیر کے مطابق جن ضلعوں میں ہاسٹل کا قیام نہیں ہوسکا ہے ۔ اس کے پیچھے آر جے ڈی ہے۔ وزیر نے اس مدعے  پر آر جے ڈی کے مقامی لیڈروں کو قصوروار بتایا ہے۔ غورطلب ہے کہ اقلیتی فلاح کے وزیر کے خود کے ضلع بتیا میں اقلیتی ہاسٹل کی تعمیر نہیں ہو سکی ہے اسکے ساتھ ہی ارول،  سیتامڑی، جموئی اور پورنیہ میں ہاسٹل کی تعمیر ٹھنڈے بستہ میں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز