مولانا ولی رحمانی کی طلاق سمیت تمام مسلم معاملات کو سیاسی رنگ دینے پر مودی کی تنقید

May 13, 2017 06:16 PM IST | Updated on: May 13, 2017 06:16 PM IST

پٹنہ۔  ہندوستان کا آئین سبھی مذاہب کے لوگوں کو اپنے رسم و رواج کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے لیکن وزیراعظم نریندر مودی طلاق کے مدعا کو ہوا دیکر خود اسے سیاسی مدعا بنا رہے ہیں۔ ' یہ کہنا ہے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کا۔ رحمانی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو بھی جہالت پر مبنی فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جب زیر بحث ہے اور عدالت عظمیٰ کا جو فیصلہ آئیگا بورڈ اسے قبول کرے گا۔

پورے ملک میں طلاق کے مدعا پر زوردار بحث کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی سے بھی مسلم رہنماؤں کا ایک وفد اس معاملے پر ملاقات کرچکا ہے اور پی ایم مودی نے خود مسلم سماج کو اس مسئلہ کو حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر اسی درمیان الہ آباد ہائی کورٹ  نے فتویٰ اور طلاق کے معاملے پر اپنا فیصلہ دیا ہے۔ پٹنہ میں تعلیمی تحریک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تحفظ شریعت اور اصلاح معاثرہ کا پروگرام منعقد کیا گیا ۔ اس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ وہیں پروگرام میں شریک بہار حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل خورشید عالم نے بھی الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو غلط بتایا تو الکریم ایجوکیشن ٹرسٹ کے چیئرمین اشفاق کریم نے کہا کہ کسی کے مذہبی معاملے میں حکومت کو دخل نہیں دینا چاہئے۔ وہیں خواتین نے بھی اس معاملے میں پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی حمایت کی ۔

مولانا ولی رحمانی کی طلاق سمیت تمام مسلم معاملات کو سیاسی رنگ دینے پر مودی کی تنقید

مولانا ولی رحمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے جڑے لوگوں نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ صرف طلاق کا نہیں ہے بلکہ حکومت طلاق کے مدعا پر غیر ضروری سیاست کرکے مسلم پرسنل لاء کے دیگر معاملوں میں بھی دخل دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ اس معاملے پر آخری فیصلہ عدالت عظمیٰ کو ہی کرنا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز