اپوزیشن نے لگایا الزام : بہار حکومت اقلیتوں کے فلاحی کام کو لیکر نہیں ہے سنجیدہ

Oct 03, 2017 07:48 PM IST | Updated on: Oct 03, 2017 07:48 PM IST

 پٹنہ۔ بہار میں اقلیتوں کا فلاحی کام بند پڑا ہے ۔ یہ الزام بہار کی اپوزیشن پارٹی نے لگایا ہے۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال میں صوبائی اور مرکزی حکومت کی اسکیموں کو ملا دیں تو اقلیتوں کی فلاح پر قریب 800 کروڑ روپیہ خرچ کیا جانا ہے۔ ادھر برسراقتدار جماعت کا دعویٰ ہے کہ اقلیتوں کے فلاح کے سلسلے میں پہل تیز ہوئی ہے۔

بہار میں اقلتیوں کی 17 فیصدی آبادی سبھی سیاسی پارٹیوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے ۔ لیکن اقلیتوں کی فلاح کی بات کریں تو خاص طور سے دیہی علاقوں کی صورت حال بیحد افسوس ناک ہے۔ سابق اقلیتی فلاح کے وزیرعبدالغفور کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کی فلاح کے نام پر پیسوں کی کمی نہیں ہے لیکن زمین پر کام کا نفاذ نہیں کے برابر ہے۔

اپوزیشن  نے لگایا الزام : بہار حکومت اقلیتوں کے فلاحی کام کو لیکر نہیں ہے سنجیدہ

مولانا انیس الرحمٰن قاسمی، جنرل سکریٹری، امارت شرعیہ بہار

ادھر اقلیتی تنظیموں نے بھی حکومت سے اقلیتوں کے نام پر مختص پیسوں کو خرچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امارت شرعیہ بہار نے موجودہ محکمہ اقلیتی فلاح کی ٹیم پربھروسہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ فلاحی کاموں میں تیزی لائی جائےگی۔ محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر خورشید عرف فیروز احمد کے مطابق ضلعوں میں اقلیتی اسکیموں کا نفاذ ایک مسئلہ بنا ہوا تھا لیکن نتیش حکومت کی جانب سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک ایک پیسوں کو اقلیتوں کی فلاح کے نام پر خرچ کیا جائےگا ۔

ڈاکٹرعبدالغفور، سابق وزیر اقلیتی فلاح، بہار ڈاکٹرعبدالغفور، سابق وزیر اقلیتی فلاح، بہار

خورشید عرف فیروز احمد کا آبائی ضلع مشرقی چمپارن یعنی بیتیا خود ایک اقلیتی ضلع ہے۔ لیکن وزیر کے آبائی ضلع میں بھی اقلیتی اکثریتی علاقوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔سوال یہ ہے کہ جب سبھی ضلعوں میں اقلیتی افسر بحال ہیں تو پھر اقلیتوں کے فلاحی کاموں میں سستی کیوں برتی جا رہی ہے۔ دانشوروں نے اس مسئلہ پر حکومت کو غور کرنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز