قرآن کے مخالفین سمجھ لیں کہ قرآن کو مٹانا آسان نہیں: مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا طلبہ سے خطاب

Apr 24, 2017 08:02 PM IST | Updated on: Apr 24, 2017 08:02 PM IST

سپول۔ ’’ قرآن کریم راہ ہدایت اورنسخہ کیمیا ہے ،اس کے بغیر کامیابی وکامرانی ناممکن ہے’’خاتم الکتب‘‘ ہے اور اس کے بعد قیامت تک کسی اور آسمانی کتاب کی ضرورت نہیں رہی۔ اس کی تجلیات سے دنیا و آخرت دونوں جگمگا رہے ہیں۔ یہ کتاب ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ احوال و واقعات اور انبیاء کرام کی تعلیمات و خدمات کو سندِ تصدیق عطا فرمائی، اس کے ساتھ یہ کتاب قیامت تک آنے والے احوال بھی منکشف کرتی ہے۔ یہ کتاب شفاء ہے جو دلوں کے روگ مٹا دیتی ہے اور اہل ایمان کے لیے مزدہ رحمت بھی ہے‘‘ ۔ ان خیالات کا اظہار بہار کی مشہور درس گاہ جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار میں منعقدہ تقریب سے بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم دین مولانا مفتی محفو ظ الرحمن عثمانی صاحب نے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی تلاوت سے گم راہوں کو ہدایت اور بیماروں کو شفا میسر آتی ہے۔ یہ ایسا ساتھی ہے جو کبھی بے وفائی نہیں کرتا۔ یہ ایسا ہم سفر ہے جو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ دنیا ، قبر اور میدان محشر میں ہر جگہ بھر پور ساتھ دیتا ہے۔ قرآن پاک ایسا دوست ہے جس کی دوستی روز قیامت بھی کام آئے گی۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے پستی بلندی میں، جہالت علم میں، اندھیرا اجالے میں اور زوال عروج میں بدل جاتا ہے۔ یہ ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر بھیجتے تو لوگوں سے قرآن مجید سنتے تھے۔ انہوں نے اپنے خطا ب میں یہ بھی کہا کہ تمام مدارس و مکاتب کا اولین اور اصل مقصد قرآن فہمی پید اکرنا،عوام کو اس تعلیمات سے روشناس کرانا اور اس پر گامزن ہونے کی تلقین کرناہوتا ہے ،انہوں نے قرآن کی خدمات انجام دینے الے بہت سے حضرات صحابہ ،تابعین اور مفسرین کا نام شمار کرایا اور کہاکہ ایک لمبی فہرست ہے جنہوں نے قرآن کی خدمت کیلئے عظیم الشان قربانیاں دی ہیں۔

قرآن کے مخالفین سمجھ لیں کہ قرآن کو مٹانا آسان نہیں: مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا طلبہ سے خطاب

برصغیر کے علماء میں انہوں نے حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ،شاہ عبد العزیز دہلوی ،مولانا محمد قاسم ناناتوی ،مولانا اشرف علی تھانوی ،مولانا محمود حسن دیوبندی ،مولانا قاری طیب صاحب ،شیخ الحدیث مولانا زکر یا کاندھلوی ،علامہ سید سلمیان ندوی،مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ سمیت بہت سارے نام شما رکرائے اور کہاکہ ان حضرات نے قرآن کی تعلیمات کو فروغ دینے کیلئے جو خدمات انجام دی ہیں اسے کبھی بھی تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ آج کی یہ تقریب تکمیل حفظ قرآن اور تکمیل مشکوۃ کیلئے منعقد کی گئی تھی ،تقریبا 65 طلبہ نے سال رواں حفظ اور مشکوۃ شریف کی تعلیم جامعۃ القاسم سے مکمل کی اور شرکاء نے ان طلبہ کو خصوصی دعائوں سے نوازا اور تعلیمی سفر مکمل کرنے پر انہیں مبارکباد پیش کی ۔

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز