افرازالاسلام کا کیس کولکاتہ منتقل کرنے کیلئے اہل خانہ کی این ایچ آر سی سے اپیل ، متعدد سینئر وکلاء پیروی کیلئے تیار

Dec 15, 2017 09:13 PM IST | Updated on: Dec 15, 2017 09:13 PM IST

مالدہ: راجستھان پولیس اور انتظامیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے لوجہاد کے نام پر بے رحمی سے قتل کئے گئے افرازالاسلام کے اہل خانہ قانونی و عدالتی کارروائی کو مغربی بنگال منتقل کرنے کیلئے حقوق انسانی کمیشن سے اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ راجستھان میں منصفانہ طور پر ٹرائل ناممکن ہے اس لیے منصفانہ عدالتی کارروائی کیلئے قاتل کے خلاف مقدمات کو مغربی بنگال منتقل کیا جائے۔ افرازالاسلام خان کے گھر کے ایک ممبر نے بتایا کہ وہ جلد ہی قومی حقوق کمیشن سے رابطہ کرکے قاتل کے خلاف ٹرائل کو مغربی بنگال منتقل کرنے کی درخواست کریں گے ۔خیال رہے کہ راجستھان پولس نے افراز ل کے قاتل شمبھو لال ریگار کو گرفتار کرچکی ہے اور قتل کی پوری کارروائی کی ویڈیو کرنے والے شمبھو کے بھانجے کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔

افراز کے اہل خانہ نے بتایا کہ راجستھان میں قاتل کی حمایت میں آوازیں بلند ہورہی ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے حکمراں جماعت سے اچھے تعلقات ہیں ایسے ہمیں راجستھانں میں عدالتی کارروائی پر یقین نہیں ہے ۔اگر مقدمہ کی کارروائی کے دوران افرازل کی بیوہ ، بیٹیاں راجستھان گئیں تو ان پر بھی حملہ ہوسکتا ہے ۔افرازل خان کے اہل خانہ کی خصوصی مدد کیلئے مغربی بنگال بار کونسل نے اسپیشل کمیٹی بنائی ہے۔ کمیٹی کے ممبر ایڈوکیٹ اسیت باسو جو افرازل کے اہل خانہ کی قانونی مدد کرنے کیلئے سامنے آئے ہیں نے بتایا کہ افرازل کے بیوہ اور بیٹی کو دھمکی آمیز فون آرہے ہیں کہ کیس واپس لے لیں اور کئی فون کال پر روپے کی پیش کش کی گئی ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ راجستھان میں افرازل کی بیوہ اور بیٹیوں کو مکمل سیکورٹی پولس نہیں دے سکے گی ۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی بیسٹ بیکری کیس کو گجرات سے ممبئی منتقل اسی بنیاد پر کیا گیا گیا تھا۔

افرازالاسلام کا کیس کولکاتہ منتقل کرنے کیلئے اہل خانہ کی این ایچ آر سی سے اپیل ، متعدد سینئر وکلاء پیروی کیلئے تیار

افرازل کی بیوہ گل بہار نے اسی ہفتہ سوموار کو یو این آئی کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ راجستھان میں افرازل کے قاتل کے خلاف قانونی کارروائی منصفانہ ہونے کا امیدنہیں ہے۔ راجستھان حکومت میرے شوہر کو سیکورٹی دینے میں ناکام رہی ہیں ۔اس لیے اب ہمیں امید نہیں ہے کہ وہی حکومت ہمیں سیکورٹی دے سکے گی اور منصفانہ عدالتی کارروائی ہوسکے گی ۔مغربی بنگال بار کونسل کے سابق چیرمین اسیت باسو نے آج مغربی بنگال حقوق انسانی کمیشن کو افرازل کے اہل خانہ کی طرف سے درخواست دیدی ہے اور اسی کو خط کو قومی حقوق انسانی کمیشن کو بھی بھیجا جائے گا۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے کئی سینئر وکلاء اور قانونی ماہرین نے بتایا کہ اس بہیمانہ قتل کے معاملے کی منتقلی کا امکان ہے ۔جب کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے کئی سینئر وکلاء نے افرازل خان کی طرف سے کیس لڑنے کی پیش کش کی ہے ۔

مغربی بنگال کی حقوق انسانی کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک اور معروف تنظیم ’’ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن ‘‘نے بھی افرازل خان کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کے بعد اس کیس میں فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے ۔ہیومن رائٹس پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے صدر شمیم احمد نے یواین آئی بتایاکہ مغربی بنگال حقوق انسانی کمیشن، راجستھان حقوق انسانی کمیشن اور قومی حقوق انسانی کمیشن کو خط لکھا گیا ہے اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے اس کیس کو کلکتہ منتقل کیا جائے ۔شمیم احمد نے کہا کہ راجستھان میں انصاف کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔

خیال رہے کہ مغرب بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے افرازل کے اہل خانہ کیلئے تین لاکھ روپیہ اور گھر کے ایک فرد کو نوکردی دینے کی پیش کش کی ہے۔یو این آئی سے بات کرتے ہوئے افرازل کی چھوٹی بیٹی حبیبہ نے بتایا تھاکہ ’’بابا کے قتل کے بعد یہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے نے ملاقات کی ہے اور کئی تنظیموں کے نمائندے ملاقات کرکے ہمارے غم میں شریک ہورہے ہیں اور کچھ نے مالی مدد کی ہے ۔مگرہماری لڑائی پہلے بابا کو انصاف دلانا ہے‘‘ ۔حبیبہ نے بتایا تھا کہ میرے ابا ہم تین بہنوں کو پڑھائی کیلئے حوصلہ بڑھاتے رہتے تھے۔گرچہ وہ ہمارے درمیان زیادہ دنوں تک نہیں رہ پاتے تھے مگر ہمیشہ ہم لوگوں سے فون پر بات چیت کرتے رہتے تھے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز