آر ایس ایس کے زیرانتظام چلنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا بنگال کے مسلم حلقوں نے کیا خیرمقدم

Mar 09, 2017 07:21 PM IST | Updated on: Mar 09, 2017 07:34 PM IST

کلکتہ : مغربی بنگال حکومت کے ذریعہ مذہبی منافرت وعدم رواداری پر مبنی نصاب کو اپنے اسکولوں میں شامل کرنے والے 125اسکولوں کے خلاف جانچ و کارروائی کے فیصلہ کا مغربی بنگال کے مسلم حلقے نے خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کاجرأت مندانہ قدم ہے ۔یہ آر ایس ایس حامی ٹرسٹوں کے تحت رجسٹر ڈ ہیں۔ خیال رہے کہ مغربی بنگال حکومت نے آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے تین ٹرسٹوں کے 125اسکولوں کو’’مذہبی عدم رواداری‘‘ اور’’سرکاری نصاب ‘‘سے انحراف کرنے پر نوٹس جاری کیا ہے ۔یہ تمام اسکول سرادا شیشو تیرتھ، سرسوتی شیومندر اور ویکانند ودیا وکاس پریشد کے تحت چلتے ہیں ۔ان تینوں ٹرسٹوں کے تحت 350اسکول ہیں جہاں 60000ہزار بچے پڑھتے ہیں ۔ ممبر پارلیمنٹ سلطان احمد نے کہا کہ ممتا بنرجی نے کی قیادت والی حکومت کسی بھی طرح کی مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسکولوں سے متعلق شکایتیں موصول ہونے کے بعد اب حکومت نے ان 125اسکولوں کو نوٹس جاری کیا ہے۔

مسٹرسلطان احمد نے کہا کہ ممتا بنرجی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہندوستان میں اس وقت وہ واحد لیڈر ہیں جو بی جے پی اور آر ایس ایس کے سنگھی نظریات کا پوری قوت سے مقابلہ کررہی ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ سی پی ایم صرف آر ایس ایس کے خلاف بیان بازی کرتی رہی ہے مگر آج تک اس نے کوئی کارروائی نہیں کی اور اب ممتا بنرجی نے یہ کارروائی کی ہے ۔

آر ایس ایس کے زیرانتظام چلنے والے اسکولوں کے خلاف کارروائی کا بنگال کے مسلم حلقوں نے کیا خیرمقدم

خیال رہے کہ اسمبلی میں سی پی ایم کے ممبر اسمبلی مانس مکھرجی نے کہا کہ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ٹرسٹوں کے تحت چلنے والے 350اسکولوں میں مذہبی عدام رواداری کا سبق پڑھایا جاتا ہے ۔یہ ریاست کثیر مذہبی و لسانی ہم آہنگی کیلئے شدید خطرہ ہے ۔ اس کے جواب میں ریاستی وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے کہا کہ حکومت نے 125اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جہاں مذہبی عدم رواداری کا سبق پڑھایا جاتا ہے ۔ان اسکولوں کوبھی نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔

مسٹرسلطان احمد نے کہا کہ سابقہ بایاں محاذ حکومت نے 2002 اور 2003 میں مدارس اسلامیہ کے خلاف جانچ کی بات کہی تھی ۔مگر آر ایس ایس کے ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والے اسکولوں کی طرف توجہ نہیں دی گئی تھی ۔مگر اب ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت نے اس جانب توجہ دی ہے ۔ خیال رہے کہ جن 125اسکولوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے ان میں 96اسکولیں بغیر این اوسی کے چل رہے ہیں ۔10مغربی بنگال بورڈ سے منظور شدہ ہیں ۔19عارضی این اوسی ہیں ۔زیادہ تر پرائیویٹ اسکول مرکزی حکومت بورڈ سے منظور شدہ ہیں اور ریاست سے این اوسی لے کر کام کرتے ہیں۔2011میں ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

بایاں محاذ کے دور حکومت محض 300شاکھائیں لگتی تھیں مگر ایک رپورٹ کے مطابق ان شاکھاؤں کی تعداد ہزار کے قریب پہنچ چکی ہیں ۔حالیہ دنوں میں ریاست میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں بالخصوص سی پی ایم ممتا بنرجی پر آر ایس ایس کے تئیں نرم رویہ اپنانے کا الزام عائدکررہی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز