اردو تاریخ و ثقافت کا اٹوٹ حصہ اور عام لوگوں کی زبان ہے: نجمہ ہپت اللہ

Oct 07, 2017 07:37 PM IST | Updated on: Oct 07, 2017 07:38 PM IST

امپھال۔ منی پور کی گورنر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ نے آج یہاں کہا کہ ہندوستانی تاریخ اور ثقافت کا اٹوٹ حصہ رہی اردو زبان عام لوگوں کی زبان بن گئی ہے۔ ڈاکٹر ہپت اللہ نے امپھال ہوٹل میں اردو، عربی ، سی اے بی اے ، ایم ڈی ٹی پی مراکز کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے اور وقت گذرنے کے ساتھ  ساتھ اس نے دیگر زبانوں کے الفاظ کو بھی اپنے اندر سمولیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے الفاظ کا استعمال دیگر زبانوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ زبان اور مذہب دو الگ الگ موضوعات ہیں کیوں کہ مختلف مذاہب کے لوگ اس علاقے کی زبان بولتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کو اطلاع ملی کہ انسانی وسائل کے فروغ کی وزارت کے تحت کام کرنے والا ادارہ قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو امپھال میں پروگرام منعقد کررہا ہے ، جہاں مسلمان منی پوری زبان بولتے ہیں تو انہیں تھوڑی حیرت ہوئی لیکن لوگوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر وہ کافی خوش ہیں۔ ڈاکٹر ہپت اللہ نے برصغیر ہند وپاک میں ارد و زبان کے فروغ، خوبصورتی اورگہرائی و گیرائی پر گفتگو کی۔ انہوں نے اردو زبان کی ترقی میں ہندوستانی سنیما کے رول کی بھی تعریف کی۔

اردو تاریخ و ثقافت کا اٹوٹ حصہ اور عام لوگوں کی زبان ہے: نجمہ ہپت اللہ

منی پور کی گورنر ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ: فائل فوٹو۔

این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے اس موقع پر کہا کہ وہ آج ہونے والے الیکشن کے باوجود کونسل کے منی پور میں اردو کانفرنس کے انعقاد کو ملنے والی حمایت سے حیرت زدہ ہیں۔ انہوں نے گورنر اوردیگر سرکاری نمائندوں کا خیر مقدم کیا اور کونسل کی خدمات کا ذکر کیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز