آسام : نیوز 18 کی خاتون صحافی پر پولیس نے کیا لاٹھی چارج ، سنگین چوٹیں آئیں

Mar 11, 2018 08:58 AM IST | Updated on: Mar 11, 2018 08:59 AM IST

بیرابی : آسام میروزم سرحدی تنازع کے درمیان میزو طلبہ کے احتجاج نے ہفتہ کو پرتشدد شکل اختیار کرلیا ۔ آسام پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور گولی بھی چلانی شروع کردی ۔ اس دوران کئی افراد زخمی ہوگئے ، جن میں نیوز 18 کی ایک صحافی ایمی سی لابئی بھی شامل ہیں ۔

ایمی کے کندھے اور پیٹھ پر سنگین چوٹیں آئی ہیں ۔ ان کا بیرابی کے اسپتال میں اتبدائی علاج کرایا گیا ۔ پولیس کی گولی سے دو دیگر لوگ بھی زخمی ہوئے ہیں ۔ لابئی نے فیس بک پوسٹ کے ذریعہ پورے واقعہ کے بارے میں معلومات دی ۔ انہوں نے لکھا میں صبح تقریبا چھ بجے آئزوال سے دیگر رپورٹروں کے ساتھ نکلی تھی ، صبح گیارہ بجے ہم بیرابی پہنچے اور راست طور پر میزو طلبہ سے ملاقات کی ۔ اس سے پہلے کہ ہم سو فٹ دور کھڑے آسام کے افسروں سے بات چیت کرپاتے میزو طلبہ نے پولیس کی طرف بڑھنا شروع کردیا ، ان کےپاس لکڑی کے ٹکڑے تھے اور کوئی ہتھیار نہیں تھا ۔

آسام : نیوز 18 کی خاتون صحافی پر پولیس نے کیا لاٹھی چارج ، سنگین چوٹیں آئیں

ایمی نے مزید بتایا کہ آسام پولیس نے طلبہ کو اپنی طرف آگے بڑھتا ہوا دیکھا تو انہیں روکنے کی کوشش کی ، دونوں طرف سے کچھ باتیں کہی گئیں اور پھر لاٹھی چارج شروع ہوگیا ۔ پولیس سب کو پیٹتے ہوئے ہماری طرف آنے لگی ، میری پیٹھ اور ہاتھ  پر لاٹھی لگی ۔ پولیس نے گولی بھی چلانی شروع کردی ، میں اتنا ڈر گئی کہ اپنی کار کی طرف بھاگنے لگی ۔

ایمی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ بتانے کے بعد بھی کہ وہ ایک صحافی ہے ، پولیس اہلکار انہیں پیٹتے رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پولیس والا دوسروں کو روکنے کی کوشش کررہا تھا ، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

ایمی نے بتایا کہ اس دوران انہوں نے اپنا کیمرہ چالو رکھا ۔ انہوں نے لکھا کہ میں جتنی تیزی سے بھاگ سکتی تھی ، بھاگی اور جو کار سامنے دیکھی اس میں بیٹھ گئی ۔ ہم سبھی بیرابی اسپتال پہنچے اور اپنا علاج کروایا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز