شرد یادو پر نتیش کی کارروائی، راجیہ سبھا میں جنتا دل(یو) کے لیڈر کے عہدہ سے ہٹائے گئے

Aug 12, 2017 01:33 PM IST | Updated on: Aug 12, 2017 08:15 PM IST

نئی دہلی۔  جنتا دل یو نے راجیہ سبھا کے رکن علی انور کو پارٹی کے لیجس لیچر پارٹی سے معطل کرنے کے ایک دن بعد آج سینئر لیڈر شرد یادو کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں راجیہ سبھا میں پارٹی کے لیڈر کے عہدہ سے ہٹا کر ان کی جگہ آرسی پی سنگھ کو مقرر کردیا ہے۔ جنتا دل یو کی بہار یونٹ کے صدر وششٹ نارائن سنگھ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسٹر آر سی پی سنگھ کو راجیہ سبھا میں پارٹی کا لیڈر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر شرد یادو کی موجودہ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے ایسا کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری سنجے جھا نے صبح دس بجے راجیہ سبھا کے چےئرمین ایم وینکیا نائیڈو سے ملاقات کرکے پارٹی کی طرف سے اس سلسلے میں خط سونپا۔

خط میں مطلع کیا گیا ہے کہ پارٹی نے راجیہ سبھا میں مسٹر شرد یادو کی جگہ مسٹر آر سی پی سنگھ کو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے ۔ جنتا دل یو صدر اور وزیر اعلی نتیش کمار کے بہار میں مہاگٹھ بندھن سے ناطہ توڑ کر بی جے پی سے مل کر حکومت بنانے کے بعد سے ہی مسٹر یادو ان کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بہار کے عوام کے ساتھ وشواش گھات ہے۔ مسٹر نتیش کمار نے کل نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات سے قبل مسٹر یادو کے خلاف کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسٹر یادو اپنا فیصلہ کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ وہ اپنی راہ منتخب کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ وہ کس کے تئیں وفادار رہنا چاہتے ہیں اسکا فیصلہ خود کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ پوری پارٹی کے اتفاق رائے سے کیا گیا ہے۔ اترپردیش کیڈر کے آئی اے ایس افسر رہے آر سی پی سنگھ 2010میں انتظامی سروس سے رضاکارانہ سبکدوش ہونے کے بعد جنتا دل یو میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ مسٹر کمار کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

شرد یادو پر نتیش کی کارروائی، راجیہ سبھا میں جنتا دل(یو) کے لیڈر کے عہدہ سے ہٹائے گئے

مسٹر انور کل اپوزیشن کے اتحاد کے لئے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ذریعہ یہاں طلب کردہ میٹنگ میں شامل ہوئے تھے جب کہ پارٹی نے اس کے لئے انہیں مقرر نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد کل رات میں ہی انہیں پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کی رکنیت سے معطل کردیا گیا تھا۔ اس سے قبل مسٹر شرد یادو کے خیمے کے سمجھے جانے والے پارٹی کے جنرل سکریٹری ارون کمار سریواستو کو بھی جنرل سکریٹری کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مسٹر سریواستو نے گجرات راجیہ سبھا الیکشن کے لئے غیر قانونی طور پر مبصر مقرر کیا تھا۔ اس کے لئے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ بی جے پی اور کانگریس کے لئے وقار کا سوال بنے اس الیکشن میں اسمبلی میں پارٹی کے واحد رکن چھوٹوبھائی واسوا نے کہا تھا کہ انہوں نے کانگریس کے امیدوار احمد پٹیل کو ووٹ دیا کیوں کہ بی جے پی نے گذشہ بیس برسوں سے ریاست میں لوٹ مچا رکھی ہے اور وہ بی جے سے ہاتھ ملانے کے لئے نتیش کمار کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔ جنتا دل یو کیرل یونٹ کے سربراہ ایم پی ویریندر کمار بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے مسٹر نتیش کمار کے فیصلے کی پہلے ہی مخالفت کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ کیرل یونٹ ان کے فیصلے کے ساتھ نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز