Live Results Assembly Elections 2018

بہار میں پھر این ڈی اے حکومت، نتیش کمار نے لیا وزیر اعلی کے عہدے کا حلف

پٹنہ۔ جمعرات کی صبح 10 بجے نتیش کمار نے چھٹی بار وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔

Jul 27, 2017 10:17 AM IST | Updated on: Jul 27, 2017 01:55 PM IST

پٹنہ۔ بہار میں مسٹر نتیش کمار نے محض 16 گھنٹے کے اندر اتحادی بدل کر ایک بار پھر وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لے لیا اور اسی کے ساتھ چار سال 40 دن بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھی حکومت میں واپسی ہو گئی ۔ راج بھون کے راجندر منڈپم میں منعقدہ تقریب میں گورنر كیسري ناتھ ترپاٹھی نے مسٹر کمار کو وزیر اعلی کے عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ اس کے بعد وزیر کے طور پر محض ایک مسٹر مودی نے عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔

اس موقع پر مرکزی وزیر جےپي نڈا اور بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری انیل جین کے علاوہ ریاستی صدر نتياند رائے، جنتا دل متحدہ (جے ڈی یو) کے ریاستی صدر وششٹھ نارائن سنگھ کے علاوہ این ڈی اے کے کئی رہنما، رکن اسمبلی سمیت سینئر لیڈر موجود تھے۔

بہار میں پھر این ڈی اے حکومت، نتیش کمار نے لیا وزیر اعلی کے عہدے کا حلف

مسٹر کمار نے 16 جون 2013 کو مسٹر لال کرشن اڈوانی کی جگہ مسٹر نریندر مودی کو وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار اعلان کئے جانے سے ناراض ہوکر بی جے پی سے قریب 16 سال پرانا ناطہ توڑ لیا تھا لیکن، چار سال 40 دن بی جے پی سے الگ رہنے کے بعد وہ پھر سے اس کے ساتھ ہو گئے ہیں۔

Loading...

این ڈی اے سے باہر آنے کے بعد مسٹر کمار کی پارٹی جنتا دل یو نے سال 2014 کا لوک سبھا انتخابات ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ساتھ مل کر لڑا لیکن اسے صرف دو سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ لوک سبھا انتخابات میں زبردست شکست کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے مسٹر کمار نے 20 مئی 2014 کو وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے کر مسٹر جیتن مانجھی کو وزیر اعلی بنا دیا تھا۔ بعد میں وہ مسٹر مانجھی کو ہٹا کر آر جے ڈی اور کانگریس کی حمایت سے دوبارہ وزیر اعلی بن گئے۔ اس کے بعد آر جے ڈی، جے ڈی یو اور کانگریس نے مهاگٹھبندھن بنا کر سال 2015 کے اسمبلی الیکشن لڑا جس میں انہیں دو تہائی سے بھی زائد اکثریت ملی۔

#FLASH Amid Bihar political tussle, Nitish Kumar takes oath as Chief Minister for the sixth time pic.twitter.com/3jjnXATMuc

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر تیجسوی یادو کے خلاف بدعنوانی کے معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی ایف آئی آر کے بعد سے ہی ان پر نائب وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دینے کے لئے جے ڈی یو کی جانب سے دباؤ بنایا جا رہا تھا۔ اسی سلسلے میں ریاست میں حکمران مهاگٹھبندھن کے دو بڑے اتحادی آر جے ڈی اور جے ڈی یو کے درمیان کئی دنوں تک ہونے والی کشمکش کے بعد کل شام مسٹر نتیش کمار نے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

غالبا ایسا پہلی بار ہوا ہے جب کسی وزیر اعلی نے استعفی دینے کے محض 16 گھنٹے کے اندر ہی دوبارہ حکومت بنا لی ہو۔ استعفی کے تین گھنٹے کے اندر ہی بی جے پی نے مسٹر کمار کی قیادت کو قبول کرتے ہوئے انہیں حکومت بنانے کے لئے غیر مشروط حمایت دینے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعلی کی رہائش گاہ میں این ڈی اے پارٹی اراکین کی میٹنگ ہوئی جس میں مسٹر کمار کو متفقہ طور پر لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس کے بعد رات 12 بجے مسٹر کمار نے مسٹر مودی اور حامی ممبران اسمبلی کے ساتھ راج بھون جاکر حکومت بنانے کا دعوی بھی پیش کر دیا۔ گورنر نے مسٹر کمار کے دعوے کو قبول کرتے ہوئے انہیں حکومت بنانے کی دعوت بھی دے دی۔

راہل گاندھی نے کہا کہ پچھلے تین چار مہینے سے ہمیں پتہ تھا کہ یہ پلاننگ چل رہی ہے۔ اپنے مفاد کے لئے یہ شخص کچھ بھی کر جاتا ہے۔  

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز