جے شری رام کا نعرہ لگانے والے نتیش کے وزیر خورشید نے فتوی جاری ہونے کے بعد مانگی معافی

Jul 30, 2017 05:02 PM IST | Updated on: Jul 30, 2017 05:03 PM IST

پٹنہ : جے شری رام کا نعرہ لگا کر سرخیوں میں آنے والے نتیش حکومت کے وزیر خورشید عرف فیروز احمد نے معافی مانگ لی ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار سے ملنے کے بعد خورشید نے یہ معافی مانگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے 'جے شری رام نعرہ لگانے سے کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ معافی مانگتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ جے شری رام کا نعرہ لگانے کے بعد خورشید کے خلاف امارت شرعیہ کے ایک قاضی مفتی سہیل احمد قاسمی نے فتوی جاری کیا تھا۔ انہوں نے خورشید کو اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جو شخص 'جے ​​شری رام کا نعرہ لگائے اور کہے کہ میں رحیم کے ساتھ ساتھ رام کی بھی پوجا کرتا ہوں اور میں سبھی مذہبی مقامات پر اپنا سر جھکاتا ہوں، تو ایسا شخص اسلام سے خارج اور مرتد ہے۔ تاہم ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے اور اس کو امارت شرعیہ کا فتوی نہ سمجھا جائے۔

جے شری رام کا نعرہ لگانے والے نتیش کے وزیر خورشید نے فتوی جاری ہونے کے بعد مانگی معافی

جے ڈی یو کوٹے سے وزیر بنے خورشید نے اس فتوی کے جواب میں کہا تھا کہ اگر مجھے جے شری رام کے نعرے لگانے پڑے ، تو میں کبھی اس سے پیچھے نہیں هٹوں گا۔ خورشید نے بہار اسمبلی کے علاوہ میڈیا کے کیمرے کے سامنے بھی جے شری رام کے نعرے لگائے تھے۔ اس دوران انہوں نے کیمرے کے سامنے ہاتھ میں بندھے ہوئے ركشاسوتر بھی دکھائے تھا۔

اتنا ہی نہیں خورشید نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ مهاگٹھ بندھن سے الگ ہونے کے لئے انہوں نے مندر میں منت بھی مانگی تھی۔ میڈیا کے کیمرے کے سامنے انہوں نے اپنے ہاتھ میں بندھا كلاوا بھی دکھایا۔

خیال رہے کہ نتیش کی نئی کابینہ میں خورشید کو اقلیتی وزارت کی ذمہ داری ملی ہے۔ خورشید عرف فیروز مغربی چمپارن ضلع کے سکٹا اسمبلی کے ممبر اسمبلی ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز