بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہی ہندتو وادی ایجنڈے پر نتیش حکومت ، بہار میں اب نہیں کھلے گا کوئی نیا مذبح ، گئو کشی پر بھی پابندی

بہار میں سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور گڈ گورننس کے لئے جانی جانے والی نتیش حکومت بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے ساتھ ہی اب ہندتووادی ایجنڈے پر گامزن ہوگئی ہے۔

Jul 31, 2017 09:57 PM IST | Updated on: Jul 31, 2017 10:02 PM IST

پٹنہ : بہار میں سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور گڈ گورننس کے لئے جانی جانے والی نتیش حکومت بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کے ساتھ ہی اب ہندتووادی ایجنڈے پر گامزن ہوگئی ہے۔ اتر پردیش کی طرز پر حکومت تشکیل کے بعد نتیش حکومت نے ریاست میں گئو کشی پر پابندی لگا دی ہے۔ ریاست کے مویشی پروری کے وزیر پشوپتی کمار پارس نے عہدہ سنبھالتے ہی ریاست میں نہ صرف گئو کشی پر پابندی لگا دی ہے بلکہ نئے مذبح کھولنے پر بھی روک لگا دی ہے۔ ایچ ٹی میڈیا کے مطابق پارس نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا محکمہ اب کوئی نیا مذبح قائم کرنے کا لائسنس جاری نہیں کرے گا۔

تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق بہار میں گئو کشی پر 1955 سے ہی روک لگی ہے ، لیکن حکومت کے ڈھیلے رویہ کی وجہ سے گزشتہ 15-20 سالوں سے گائے، بھینس اور دیگر جانوروں کا ذبح جاری ہے۔ اسے روکنے سے پہلے اس سال کے آغاز میں بی جے پی نے ریاست میں گئو كشي پر روک لگانے کا مطالبہ نتیش حکومت سے کیا تھا۔ سال 2015 کے اسمبلی انتخابات میں بھی بیف پر سیاست چھڑی تھی۔ تب وزیر اعظم مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ نے اس مسئلے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی ، لیکن انہیں کچھ خاص ہاتھ نہیں لگ سکا تھا۔

بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہی ہندتو وادی ایجنڈے پر نتیش حکومت ، بہار میں اب نہیں کھلے گا کوئی نیا مذبح ، گئو کشی پر بھی پابندی

علامتی تصویر

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز