پٹنہ ہائی کورٹ سے لالو یادو کو دھچکا، نتیش کمار کو بڑی راحت، حکومت تشکیل کے خلاف کیس خارج

بہار میں نتیش کمار کی قیادت والی حکومت کی تشکیل کو چیلنج دینے والی مفاد عامہ کی عرضی کو پٹنہ ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔

Jul 31, 2017 12:55 PM IST | Updated on: Jul 31, 2017 12:55 PM IST

پٹنہ : بہار میں نتیش کمار کی قیادت والی حکومت کی تشکیل کو چیلنج دینے والی مفاد عامہ کی عرضی کو پٹنہ ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا ہے۔آر جے ڈی ممبر اسمبلی سروج یادو کی مفاد عامہ کی عرضی پر جسٹس راجندر مینن کی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی عمل ہے۔ بومئی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔

ادھرپٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف جے ڈی یو ایم ایل اے اور درخواست گزار سروج یادو نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی بات کہی ہے۔خیال رہے کہ مفاد عامہ کی عرضی میں یہ کہا گیا تھا کہ گورنر نے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا اور حکومت تشکیل کیلئے انہوں نے اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی کو مدعو نہیں کیا۔

پٹنہ ہائی کورٹ سے لالو یادو کو دھچکا، نتیش کمار کو بڑی راحت، حکومت تشکیل کے خلاف کیس خارج

عرضی میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں عوام نے بی جے پی کے خلاف مینڈیٹ دیا تھا اور مهاگٹھ بندھن کو عوام نے 5 سال کے لئے حکومت کرنے کے لئے ووٹ دیا تھا، لیکن اس طرح سے بہار میں راتوں رات حکومت کو تبدیل کر دیا گیا۔ بہار میں نئی حکومت کا قیام قوانین کے خلاف ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بہار اسمبلی میں فلور ٹیسٹ میں این ڈی اے کو 131 ووٹ حاصل ملے اور آر جے ڈی کانگریس الائنس کو 108 ووٹ ملے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو کو کامیاب ہونے کے لئے 243 ممبران اسمبلی میں سے 122 ممبران کی درکار تھی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز