وزیر اعظم مودی کے خلاف فتویٰ کی حمایت کوئی بھی مسلمان نہیں کرتا: پیر زادہ فرفرہ شریف

Jan 11, 2017 10:28 AM IST | Updated on: Jan 11, 2017 10:28 AM IST

کلکتہ ۔ کلکتہ شہر کے ایک امام کے ذریعہ وزیر اعظم کے خلاف فتویٰ پر جاری تنازع کے درمیان کل  مغربی بنگال کی مشہور خانقاہ فرفرہ شریف کے پیر زادہ طحہٰ صدیقی نے ائمہ مساجد اور علماء کرام سے اپیل کی ہے کہ ہر اس بیانات سے گریز کریں جس سے ملک میں فرقہ پرستی میں اضافہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فرقہ پرست قوتوں کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے۔

کلکتہ پریس کلب میں نامہ نگاروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پیر زادہ طحہٰ صدیقی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف کلکتہ کے مرکزی علاقے میں واقع ٹیپو سلطان مسجد کے امام مولانا نور الرحمن برکتی کا بیان ان کا ذاتی ہے اور اس سے مسلمانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اس ملک کے مسلمان کو آئین و دستور پر یقین ہے اورایسا کچھ بھی نہیں کریں گے جو آئین و دستور سے بالاتر ہو۔انہوں نے مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات پر توجہ نہ دیں اور ماورائے آئین و قانون کام میں ہرگز مشغول نہ ہوں۔

وزیر اعظم مودی کے خلاف فتویٰ کی حمایت کوئی بھی مسلمان نہیں کرتا: پیر زادہ فرفرہ شریف

فرفرہ شریف خانقاہ کے پیر زادہ طحہٰ صدیقی نے بی جے پی کی طرف سے مولانا نورا لرحمن برکتی کی گرفتاری کے مطالبہ پر کہا کہ ملک کے آئین و قانون کی حکمرانی ہونی چاہے اور قانون کو اپنا کام کرنے کا مکمل حق ہے ۔طحہٰ صدیقی نے کہا کہ مولانا برکتی نے ممتا بنرجی کو خوش کرنے کیلئے اس طرح کا بیان دیا ہے لیکن اس سے ماحول بہتر ہونے کے بجائے اور خراب ہوسکتا ہے۔ ادریس علی کے بارے میں بھی انہوں نے کہا کہ ادریس نے تو ایسا بیان نہیں دیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز