پٹنہ کی مولانا مظہرالحق یونیورسٹی 25 سالوں بعد بھی سیاسی بھنور میں

Sep 06, 2017 07:55 PM IST | Updated on: Sep 06, 2017 07:55 PM IST

 پٹنہ ۔ پٹنہ کی مولانا مظہرالحق یونیورسٹی گزشتہ 25 سالوں بعد بھی سیاسی بھنورسے نہیں نکل سکی ہے۔ تازہ معاملہ وی سی اورعالم و فاضل کے رزلٹ سے جڑا ہے۔ یونیورسیٹی میں مستقل وی سی کی تقرری نہیں کی گئ ہے وہیں امتحانات کا رزلٹ اب تک جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ ادھر اپوزیشن نے یونیورسٹی کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چھیڑنے کا انتباہ دیا ہے۔

پٹنہ کے حج بھون کے پاس ایک عمارت کے چند کمروں میں قائم یہ بہار کی مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسیٹی کا عارضی دفتر ہے۔ 1992 میں قائم اس یونیورسٹی کو اب تک کوئی مستقل جگہ نہیں مل سکی ہے۔ کہنے کے لئے پٹنہ میں یونیورسٹی کو پانچ ایکڑ زمین مہیاء کی گئی ہے لیکن وہ زمین خالی پڑی ہے۔ بہار کی سبھی یونیورسٹیوں میں سات مہینہ پہلے ہی وی سی کی تقرری کردی گئی تھی لیکن مظہرالحق یونیورسٹی میں عارضی وی سی  دیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی کے ان تمام مسئلہ کو لیکر اپوزیشن نے تحریک چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔ ادھر برسراقتدار جماعت کا کہنا ہے کہ یونیورسیٹی کے مسئلہ کی جانکاری حکومت کو ہے اور حکومت جلد ہی یونیورسٹی کے مستقل قیام کو لیکر لائحہ عمل مرتب کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

پٹنہ کی مولانا مظہرالحق یونیورسٹی  25 سالوں بعد بھی سیاسی بھنور میں

یونیورسٹی کے تعلق سے اپوزیشن اورحکومت کی یہ الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب بھی یونیورسٹی کے سلسلے میں بات کی جاتی ہے سیاسی پارٹیوں کا سیاسی جواب پہلے سے تیار رہتا ہے۔ ادھر یونیورسٹی کے مسئلے برقرار رہتے  ہیں جسے ہر بار انتخابات میں مسلم ووٹوں کو حاصل کرنے کے لئے سیاسی مدعا بنایا جاتا ہے۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز