آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ تسلیم الدین کا انتقال ، نتیش ، لالو سمیت سینئر لیڈروں کا اظہار تعزیت

Sep 17, 2017 05:00 PM IST | Updated on: Sep 17, 2017 09:31 PM IST

پٹنہ: بہار کے ارریہ سے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ممبر پارلیمنٹ اور سابق وزیر مملکت برائے امورداخلہ محمد تسليم الدين کا آج انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال پر وزیر اعلی نتیش کمار اور آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو سمیت مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے گہرے غم اورتعزیت کا اظہار کیا گیا۔

مسٹر کمار نے یہاں اپنےتعزیتی پیغام میں کہا کہ مسٹر تسليم الدين ایک نامور سیاستدان اور مشہور سماجی کارکن تھے۔ ان کے انتقال سے نہ صرف سماجی بلکہ سیاسی میدان میں بھی ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ وزیر اعلی نے آنجہانی کی روح کی تسکین اور ان کے اہل خانہ ،پیروکاروں اور ان کے چاہنے والوں کے دکھ کی اس گھڑی میں صبر و استقامت عطاکرنے کی خدا سے دعا کی ہے۔

آر جے ڈی کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ تسلیم الدین کا انتقال ، نتیش ، لالو سمیت سینئر لیڈروں کا اظہار تعزیت

آر جے ڈی صدرمسٹر یادو نے ممبر پارلیمنٹ کے بے وقت موت کو انفرادی نقصان بتایا اور کہا کہ ریاست نے ایک قدآور لیڈر اور سیمانچل نے اپنا مضبوط رہنما کھو دیا ہے۔ وہ ہمیشہ کمزوروں اور مجبوروں کی آواز بنے رہے اور سچ کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ پارٹی کبھی بھی ان کی شراکت کو فراموش نہیں کرے گی۔

اس دوران مرکزی وزیر رام کرپال یادو نے ایم پی تسليم الدين کے انتقال پر گہرے غم کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ وہ بہار میں سیمانچل کی سیاست میں ایک الگ شناخت رکھنے والے عظیم وطاقتورلیڈر تھے۔ ان کی موت نے بہار کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

وہیں، سابق وزیر اعلی رابڑی دیوی، اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر تیجسوی پرساد یادو، سابق مرکزی وزیر اور راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر رگھوناتھ جھا، جنتا دل یونائیٹیڈ (جے ڈی یو) کے رکن اسمبلی شیام رجک سمیت کئی دیگر لیڈروں نے مرحوم محمد تسلیم الدین کی موت پر گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل نقصان قرار دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایم پی تسليم الدين پچھلے کچھ دنوں سے بیمار چل رہے تھے اور چنئی کے اپالو ہسپتال میں داخل تھے جہاں آج علی الصبح ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 74 سال کے تھے۔ انہیں تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ 04 جنوری 1943 کو ارریہ ضلع کے سسونا گاؤں میں پیدا ہوئے مسٹر تسليم الدين سال 1969 سے 1996 کے درمیان سات بار رکن اسمبلی منتخب کئے گئے۔ وہیں، سال 1989 میں وہ جنتا دل کی ٹکٹ پر پورنیہ سے پہلی بار ممبرپارلیمنٹ بنے اور اس کے بعد وہ 1998، 2004 اور 2014 میں دوبارہ رکن پارلیمان منتخب کئے گئے۔

وزیراعظم دیوگوڈا کی حکومت میں وہ وزیر مملکت برائے امور داخلہ بنائے گئے۔ اس کے بعد 2004 میں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت میں انہیں وزیر زراعت اور صارفین امور، فوڈ پراسیسنگ اور عوامی نظام تقسیم کے وزیر مملکت بھی بنایا گیا۔ اگرچہ 2009 ء میں وہ لوک سبھا الیکشن ہار گئے لیکن سال 2014 میں مودی لہر کے باوجود وہ آر جے ڈی کی ٹکٹ پر الیکشن جیت گئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز