روہنگیائی بچوں کی ملک بدری کے خلاف بنگال چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں عرضی

Sep 21, 2017 09:10 AM IST | Updated on: Sep 21, 2017 09:10 AM IST

کلکتہ ۔ روہنگیا رفیوجیوں کی ملک بدری پر مرکزی حکومت کے موقف کی سخت مخالفت کرنے کے بعد مغربی بنگال کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹ نے روہنگیائی بچوں کی ملک بدری کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ کمیشن نے روہنگیائی بچوں کو پڑوسی ملک بھیجنے کے فیصلے کو غیر اخلاقی اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے بچوں کو ملک بدر کرنے سے انکار کردیا تھا۔کمیشن کی چیر پرسن اننیا چکرورتی نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ہم نے روہنگیائی بچوں کی ملک بدری کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو واپس بھیجنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔

روہنگیائی شہریوں کی شناخت اور انہیں واپس بھیجنے کے مرکزی حکومت کے نوٹی فیکیشن کی مخالفت کرتے ہوئے کمیشن نے سپریم کورٹ میں تحریری عرضی دائر کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے  اپنی ریلیز میں کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں روہنگیائی بچوں اور ان کی ماؤں جو ریاست کے مختلف شیلٹرہوم اور جیلوں میں ہیں کو واپس بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں موت کے کنویں میں پھینک دیا جائے۔ اس سے قبل کمیشن نے کہا تھا کہ اس ایشو پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے دفتر سے بھی رابطہ قائم کیا جائے گا۔

روہنگیائی بچوں کی ملک بدری کے خلاف بنگال چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں عرضی

دلی کے مدن پور کھادر میں مقیم روہنگیا پناہ گزیں: فائل فوٹو۔

چکروتی نے کہا کہ اس وقت 24روہنگیائی بچے شیلٹرہوم میں ہیں اور 20بچے جیل میں اپنی ماں کے ساتھ ہیں ۔کمیشن نے ان بچوں کی فہرست بھی مرکزی حکومت سے شراکت کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے پیر کو کہا تھا کہ تمام روہنگیائی شہری دہشت گرد نہیں ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز