را م نومی کی تقریب میں اسکولی طلبہ کے ہاتھوں میں چاقو اور تلوار ہونے پر آر ایس ایس کی چوطرفہ مذمت

آر ایس ایس اوروشو ہندو پریشد کی رام نومی کی ریلی میں بچے اور بچیوں کے ہاتھوں میں تلوار اور دیگر اسلحہ ہونے پر مغربی بنگال کے دانشوروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

Apr 06, 2017 11:30 PM IST | Updated on: Apr 06, 2017 11:30 PM IST

کلکتہ: آر ایس ایس اوروشو ہندو پریشد کی رام نومی کی ریلی میں بچے اور بچیوں کے ہاتھوں میں تلوار اور دیگر اسلحہ ہونے پر مغربی بنگال کے دانشوروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ حکمراں ترنمو ل کانگریس اور بایاں محاذ نے سوال کیا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی بنگال میں کس کلچر کو متعارف کرانے کی کوشش کررہی ہے؟

رام نومی کے موقع پر بنگال میں بھر میں200ریلیوں کا آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد نے ہندؤں کو متحد کرنے کیلئے منعقد کیا تھا۔آر ایس ایس کی دلیل تھی کہ بنگال میں جہادی طاقتوں میں اضافہ ہورہا ہے اس لیے ہندؤں کو متحد کرنا ضروری ہے ۔اس ریلی میں شریک طلباء اور نابالغ بچوں کے ہاتھوں میں چاقو اور تلوار دیکھنے کو ملاتھا۔

را م نومی کی تقریب میں اسکولی طلبہ کے ہاتھوں میں چاقو اور تلوار ہونے پر آر ایس ایس کی چوطرفہ مذمت

Photo : hindisiasat.com

ترنمول کانگریس کے سیکریٹری جنرل و ریاستی وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے کہاکہ آر ایس ایس اور بی جے پی بنگال میں کس کلچر کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے۔بنگال کی تاریخ میں کبھی بھی بچوں کے ہاتھوں تلوار اور چاقو نظر نہیں آیا ہے۔

بنگال سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری سوریہ کانت مشرا نے کہا کہ بنگال میں ماں ، باپ اور بیٹے و بیٹیاں کبھی بھی مذہب کے نام پر تلوار لے کر نہیں چلتے تھے ۔اس طرح کی سرگرمیوں کو مذہب کے نام پر انجام نہیں دیا جا سکتا ہے ۔مشرا نے ترنمول کانگریس کو مور د الزام ٹھہراتے ہوئے کہاکہ ترنمول کانگریس بی جے پی سے ملی ہوئی ہے اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔

جب کہ بی جے پی نے بچے کے ہاتھوں میں تلوار کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ تلوار اور چاقو ان دنوں ہتھیار کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔بی جے پی نے کہاکہ ان دنوں اسکولوں میں چاقو اور تلواروں کی جسمانی ورزش کے طور سیکھایا جاتا ہے۔راہل سنہا نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے ورکر کھلے عام بم چلاتے ہیں اور وہ ہمیں چاقوں پر سبق نہ دے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز