عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اساتذہ کی بحالی پر تنازع ، بدعنوانی کے الزامات ، آرٹی آئی داخل

Jul 10, 2017 09:41 PM IST | Updated on: Jul 10, 2017 09:41 PM IST

کلکتہ : عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اساتذہ کی بحالی کا معاملہ اب گرماتی ہی جارہاہے ، فورم فار آئی ٹی آئی اینڈ انٹی کرپشن نامی ایک غیر سرکاری این جی او نے شعبہ اردو میں اساتذہ کی بحالی میں بدعنوانی کا الزام عاید کرتے ہوئے آرٹی آئی داخل کرکے یونیورسٹی انتظامیہ سے کئی اہم امور سے متعلق سوال طلب کیے ہیں ۔

ممتا بنرجی کی ہدایت پر عالیہ یونیورسٹی میں 2015میں ہی شعبہ اردو اور اقبال چےئر قائم کیا گیا تھا ۔مگر دوسالوں تک اساتذہ کی بحالی نہیں ہوئی اور پارٹ ٹائم اساتذہ کے ذریعہ شعبہ کو چلایا گیا ۔ایک سال قبل ہی عالیہ یونیورسٹی نے اردو شعبہ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے چار ، ایسوسی ایٹ پروفیسر کیلئے ایک اور پروفیسر کے ایک سیٹ کیلئے اشتہار جاری کیا تھا ۔جس کیلئے 250افراد نے درخواست کی تھی ۔مگر 5جولائی کو ہوئے انٹرویو میں یونیورسٹی انتظامیہ نے اسسٹنٹ پروفیسر کیلئے 27، ایسوسی ایٹ پروفیسر کیلئے 4اور پروفیسر کیلئے 4امیدواروں کو انٹرویو کیلئے طلب کیا تھا۔اس کے بعد سے ہی یہ معاملہ گرما گیاہے۔یونیورسٹی انتظامیہ پر الزام ہے کہ اس نے بغیر متعینہ اصول بنائے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو انٹرویو کیلئے طلب کیا اور بنگال کے امیدواروں کو نظرانداز کردیا گیا۔اس معاملے کی شکایت وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، وزارت اقلیتی امور کے سینئر عہدیدار اور پرنسپل سیکریٹری سے بھی کی گئی ہے ۔

عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اساتذہ کی بحالی پر تنازع ، بدعنوانی کے الزامات ، آرٹی آئی داخل

فورم فار آئی ٹی آئی اینڈ انٹی کرپشن نے اپنے آرٹی آئی میں یونیورسٹی انتظامیہ سے سوال کیا ہے کہ ان عہدوں کیلئے کتنے امیدواروں نے فیس کے ساتھ درخواست دی ہے اور امیدواروں کو شارٹ لسٹ کرنے کیلئے کوئی متعینہ اصول ہیں یا نہیں ،اسکیورٹی کمیٹی میں کتنے ممبران ہیں ،کیا اسیکورٹی کمیٹی میں کوئی امیدوار بھی شامل ہے۔مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے کتنے امیدواروں نے درخواست دی تھی اور کتنے لوگوں کو طلب کیا گیا ہے ۔کیا ان عہدوں کیلئے ریزرویشن کٹیگری کو پورا کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ انٹرویو کیلئے بے روزگار قابل امیدواروں کو فوقیت کیوں نہیں دی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ عالیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ابوطالب خان نے ایک بنگلہ روزنامہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ چوں کہ بنگال کے مسلمانوں میں یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کیلئے لائق امیدوار نہیں ہیں اس لیے دوسری ریاستوں کے امیدواروں کو طلب کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ پروفیسر کیلئے پی ایچ ڈی اور نیٹ پاس ہونا ضروری ہے ۔جب کہ بنگال میں اس کی کمی ہے۔انہوں نے اقلیتی یونیورسٹی عالیہ یونیورسٹی میں اساتذہ کی بحالی میں مسلمانوں کو ترجیح نہیں دیے جانے کے الزام پر کہا ہے کہ اب تک 126اساتذہ کی بحالی کی گئی ہے جس میں صرف 31غیر مسلم اساتذہ کو بحال کیا گیا ہے ۔پروفیسر ابو طالب خان کی دلیل ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بھی اسی تناسب سے غیر مسلم اساتذہ ہیں ۔

فورم فار آئی ٹی آئی اینڈ انٹی کرپشن نے وائس چانسلر ابو طالب خان کے بیان کی سخت تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے متعینہ اصول کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر کیلئے پی ایچ ڈی اور نیٹ میں کسی ایک کا پاس ہونا ضروری ہے ۔خیال رہے کہ وائس چانسلر نے اپنے بیان کے برعکس شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کیلئے ایسے ایسے امیدواروں کو بھی طلب کیا ہے جو ابھی ایم فل ہی کررہے تھے اور پی ایچ ڈی یا پھر نیٹ پاس امیدواروں کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔

اس سے قبل انجینئرنگ فیکلٹی میں بھی اساتذہ کی بحالی ، لائبریری اور دیگر سہولیات کے فقدان کی وجہ سے کئی مہینوں تک طلباء نے ہڑتال کیا تھا اور طلباء کے شدید احتجاج کے بعد یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کمیٹی نے ایک جانچ کمیٹی قائم کیا تھا جس میں اقلیتی کمیشن کے چیرمین کے علاوہ کئی اہم افراد تھے ۔اس کمیٹی نے بدعنوانی کے الزامات کی جانچ بھی کی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔علاوہ ازیں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس بات کو بار بار دہرایا جارہا ہے کہ عالیہ یونیورسٹی میں اقبال چیر قائم ہوگیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس عہدہ کیلئے کسی کی بھی تقرری نہیں ہوئی ہے اور جب تقرری نہیں ہوئی ہے تو پھر اقبال چےئر کیسے قائم ہوگیا ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز