مرکزی کمیٹی یونیورسٹیوں کے علاوہ اقلیت اکثریتی آبادی میں کیندریہ ودیالیہ قائم کرنے کی کرے گی سفارش

Mar 19, 2017 08:11 PM IST | Updated on: Mar 19, 2017 08:53 PM IST

کلکتہ : اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے مرکز ی حکومت کی طرف سے قائم کمیٹی کے کنوینر افضل امان اللہ نے آج کہا ہے کہ ان کی کمیٹی جلد ہی اپنی رپورٹ مرکزی وزارت اقلیتی امور کو سپرد کردے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں اقلیتی اکثریتی آبادی والے علاقوں میں کیندریہ ودیالیہ اور جواہر ودیالیہ جیسے ادارے قائم کرنے کے ساتھ پانچ یونیورسٹیوں کے قیام کی بھی سفارشات کرے گی۔ کلکتہ میں حج پالیسی 2018-22مرتب کرنے سے قبل شمال مشرقی ریاستوں کے حج کمیٹیوں کے ساتھ میٹنگ کرنے کیلئے کلکتہ آئے سابق آئی اے ایس آفیسر افضل امان نے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے دس سال بعد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں تعلیم کی شرح میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کیندریہ ودیالیہ میں ابھی بھی مسلم بچوں کی شرح4فیصد کے قریب ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم پانچ یونیورسیٹیوں کے قیام کی سفارش تو ضرور کریں گے مگر ہمارا اصل ہدف پرائمری سطح پر اقلیتی بچوں کی شرح میں اضافہ کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی اور اس کے بعد مختلف جائزے و مطالعے میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ پرائمری سطح پر بھی اقلیتی بچوں کی تعداد ان کی آبادی کے اعتبار سے نہیں ہے ۔مگر درمیان میں تعلیم چھوڑنے والوں میں سب سے زیادہ اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے بچے شامل ہیں ۔ اس لیے پرائمری سطح پر توجہ دیے بغیر یونیورسٹیوں کے قیام سے کوئی حاصل نہیں ہوگا ۔

مرکزی کمیٹی یونیورسٹیوں کے علاوہ اقلیت اکثریتی آبادی میں کیندریہ ودیالیہ قائم کرنے کی کرے گی سفارش

انہوں نے کہا کہ اسی طرح حکومت ہند نے خواندگی کی جو شرح طے کی ہے اس اعتبار سے مسلمانوں میں تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے مگر و ہ تعلیم صرف نام کے لکھنے اور پڑھنے تک محدود ہے ۔یہ لوگ ریلوے فارم تک بھرنا نہیں جانتے ہیں اس لیے یہ کمیٹی اس سے متعلق بھی اپنی سفارشات حکومت ہند کو پیش کرے گی۔ اقلیتی علاقے میں قائم ہونے والے اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں اقلیتی کیلئے ریزرویشن سے متعلق سوال پر یو این آئی سے افضل امان اللہ نے کہا کہ ریزرویشن سے متعلق ہم سفارشات پر غور نہیں کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی ایشو ہے اگر ہم اس سے متعلق کچھ بھی سفارش پیش کی تو پھر پورا معاملہ سیاسی رخ اختیار کرلے گا اور اس کے بعد کچھ بھی نہیں ہوسکے گا۔ہمارا مقصدصرف اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اقلیتی اکثریت آبادی والے علاقوں میں کیندریہ ودیالیہ یا پھر جواہر ودیالیہ قائم ہوں گے تو لا محالہ 30سے 40فیصد بچوں کا تعلق مقامی آبادی سے ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ پانچ یونیورسٹیوں کو مولانا آزاد فاؤنڈیشن کے تحت قائم کیا جائے گا جو ایک خود مختار ادار ہ ہے۔امان اللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت عالمی سطح کی یونیورسٹیاں قائم کرنے کے حق میں ہے جس میں میڈیکل، انجینئرنگ ، منجمینٹ، آیورویدا ، یونانی ، آرٹس ، سائنس اور کامرس کے شعبے ہوں گے اور ان یونیورسٹیوں کیلئے مرکزی حکومت ہی فنڈ دے گی۔ان یونیورسٹیوں کیلئے 100ایکڑ سے 300ایکڑ زمین کی ضرورت پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ یونیورسٹیاں کن ریاستوں میں قائم ہوگی اس کا فیصلہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے ۔

خیال رہے کہ 10رکنی کمیٹی میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر لیفٹنٹ جنرل ضمیر الدین شاہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد، کالی کٹ یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سید اقبال حسین ، سابق ممبر پارلیمنٹ شاہد صدیقی، ایم اے ای ایف سیکریٹری ڈی مدھوکار نائیک، جو اس پینل کے سیکریٹری ہیں ۔دیگر ممبران میں بینکر ادیان بوس، ماہر تعلیم فیروز بخت ، قمرآغا اور سماجی کارکن کلثوم نور سیف اللہ شامل ہیں ۔یہ کمیٹی پانچ یونیورسٹیوں اور اقلیتی علاقوں میں تعلیمی ادارے کے قیام کیلئے روڈ میپ پیش کرے گی۔ افضل امان اللہ نے کہا کہ ان اداروں میں خواتین کے لئے سیٹیں محدود کی جائے گی اور گرچہ یہاں ریزرویشن کا کوئی انتظام نہیں ہے مگر امید ہے کہ اقلیتی طبقے کے بچوں کو ترجیح دی جائے گی۔

یوپی اے کے دور حکومت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پانچ مراکز میں سے تین مراکز جس میں کشن گنج، مرشدآباد اور کالی کٹ برانچز سے متعلق مودی حکومت کے طرز عمل پر انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یوپی اے کے دور حکومت میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مراکز کے قیام کا فیصلہ بہت ہی جلد بازی میں کیا گیا تھا اس کیلئے تمام پہلوؤں کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا اس کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ان مراکز کو بند نہیں کیے جائیں گے ۔انہوں نے مودی حکومت کی طرف سے اقلیتی بچوں کے اسکالر شپ میں کمی کے سوال پر کہا کہ مسلمانوں کو خوف سے نکلنا ہوگا۔ایک مسلمان کبھی بھی حالات سے خوف زدہ نہیں ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں کوئی بھی اسے سرکارکے ڈھانچے میں رہ کر ہی کام کرنا ہوتا ہے۔سیاسی بیانات پر توجہ دیے بغیر اگر ہم سرکاری اسکیموں اور اپنی تعلیم پر خصوی توجہ دیں تو ہمارے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔

خیال رہے کہ افضل امان اللہ بہار اور مرکز ی حکومت میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر 33سال تک کام کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہوئے ہیں وہ بہار میں داخلہ سیکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری کے عہدہ پر رہ چکے ہیں ۔اس وقت وہ اقلیتوں کی تعلیم سے متعلق مرکزی کمیٹی کے علاوہ 2018-22 حج پالیسی کی کمیٹی کے بھی کنوینر ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز