امارت شرعیہ کی جانب سے بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال میں کھولے جائیں گے اسکول

Oct 24, 2017 08:27 PM IST | Updated on: Oct 24, 2017 08:28 PM IST

پٹنہ۔ مسلم طلباء کو جدید تعلیمی نظام سے جوڑنے کی قواعد شروع ہوگئی ہے۔ موجودہ زمانہ کی مانگ کے مطابق خالص اسلامی ماحول میں طلباء کی تعلیم کا انتظام کیا جارہا ہے۔  یہ کہنا ہے بہار کے امیر شریعت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کا۔ امارت شرعیہ کی جانب سے بہار، اڑیسہ اور جھارکھنڈ سمیت مغربی بنگال میں اسکولوں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ مولانا ولی رحمانی کا کہنا ہے کہ  میڈیکل کالج قائم کرنے کےتئیں بھی امارت سنجیدہ ہے ۔

کبھی سر سید احمد خان نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی بات کی تھی تو علماء کی جانب سے انکی مخالفت کی گئ تھی لیکن زمانے کے بدلتے مزاج نے علمائے دین کو جدید تعلیم کی اہمیت بتا دی ہے۔ امارت شرعیہ نے اس سلسلے میں پہل کی ہے اور جھارکھنڈ کے رانچی سے اس کی شروعات کی جا رہی ہے۔ امارت شرعیہ نے اعلان کیا ہیکہ آئندہ کچھ سالوں میں اسلامی ماحول میں جدید تعلیم کا انتظام مکمل کیاجائےگا۔

امارت شرعیہ کی جانب سے بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ اورمغربی بنگال میں کھولے جائیں گے اسکول

مولانا ولی رحمانی، جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت شرعیہ کے امیر شریعت مولانا ولی رحمانی پہلے سے ہی رحمانی تھرٹی اور درجنوں مدارس چلا رہے ہیں۔ مولانا ولی رحمانی نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ سبھی ضلعوں میں امارت شرعیہ اسکول قائم کرے گی۔ مولانا اپنے موقف پر قائم ہیں اور خاص طور سے بہار کے سبھی ضلعوں میں سی بی ایس سی نظام کے تحت اسکول قائم کرنے کی تحریک چلائی جا رہی ہے۔ مولانا کے مطابق موجودہ زمانہ کے مزاج کے مطابق اسکولوں کا نظام ہونا چاہئے۔ مولانا نے یہ بھی کہا کہ تعلیم، معیاری ہوگی جہاں سے معیاری طلباء نکلیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز