بہار میں ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کا تحفہ ملا، تنخواہ میں ڈھائی گنا اضافہ

May 16, 2017 09:38 PM IST | Updated on: May 16, 2017 09:38 PM IST

پٹنہ۔  بہار حکومت نے اپنے ملازمین کے لئے ساتویں پے کمیشن کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے تنخواہ میں تقریبا 15 فیصد کا اضافہ کا تحفہ دیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے پرنسپل سکریٹری روی متل نے بتایا کی وزیر اعلی نتیش کمار کی صدارت میں آج یہاں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں سابق چیف سیکرٹری جی ایس کنگ کی صدارت میں مرکزی حکومت کے ساتویں پے کمیشن کی روشنی میں قائم ریاستی تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو منظوری دی گئی۔ مسٹر متل نے بتایا کہ ریاستی تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے تحت ریاست کے سرکاری ملازمین کو تنخواہ اور پینشن لینے والوں کو پنشن میں تقریبا 15 فیصد اضافہ کا فائدہ یکم اپریل 2017 سے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کمیشن کی سفارشات کو نظریاتی طور پر یکم جنوری 2016 ہی نافذ کیا گیا ہے لیکن ملازمین کو اس کا مالی فائدہ اس برس یکم اپریل سے ملے گا۔

مسٹر متل نے بتایا کہ کمیشن کی سفارشات کے مطابق، ملازمین کی تنخواہ میں یکم جنوری 2016 کو بیسک تنخواہ اور گریڈ پہ کا 2.57 ضرب اضافہ ہوگا، جس کا مالی فائدہ اس برس یکم اپریل سے ملے گا۔ ٹھیک اسی فارمولے کے تحت ریاست کے قریب چھ لاکھ پنشن لینے والوں کی پنشن میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملازمین کے الاؤنس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ محکمہ خزانہ کے پرنسپل سکریٹری نے بتایا کہ تنخواہ اور پنشن میں اضافہ ہونے سے ریاستی حکومت کو 5000 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے ملازمین کی گریجوئٹی کی حد بھی 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی پے کمیشن کی مدت کاردو ماہ کے لئے بڑھا دی گئی ہے۔

بہار میں ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کا تحفہ ملا، تنخواہ میں ڈھائی گنا اضافہ

میٹنگ میں حصہ لینے جاتے وزیر اعلیٰ

محکمہ تعلیم کے پرنسپل سکریٹری آر کے مہاجن نے بتایا کہ حکومت نے ریاست کے ملازم اساتذہ کے لئے بھی ریاستی تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اساتذہ کی تنخواہوں میں بھی یکم جنوری 2016 کی بیسک تنخواہ میں 2.57 ضرب اضافہ ہوگا۔ انہیں بھی تنخواہ میں اضافہ کا مالی فائدہ یکم اپریل 2017 سے ملے گا۔ اس سے حکومت پر 1500 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ بڑھے گا۔ اس طرح پے کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے سے ریاستی حکومت کو کل ملاکر 6500 کروڑ روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز