سپریم کورٹ کے حکم پر آر جے ڈی کے سابق رکن پارلیمان شہاب الدین کو تہاڑ جیل لے جایا گیا

Feb 19, 2017 09:47 AM IST | Updated on: Feb 19, 2017 09:47 AM IST

پٹنہ۔ صحافی راج دیو رنجن کے قتل اور مشہور تیزاب معاملے سمیت کئی فوجداری مقدمات میں بہار کے سیوان جیل میں بند راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے دبنگ سابق ممبر پارلیمنٹ محمد شہاب الدین کو سپریم کورٹ کے حکم پر سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان دہلی کے تہاڑ جیل لے جایا گیا۔ سرکاری ذرائع نے یہاں بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد سابق ممبر پارلیمنٹ کوکل علی الصبح سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان سیوان جیل سے بیور سنٹرل جیل پٹنہ لایا گیا تھا۔ سابق ممبر پارلیمنٹ کے اسٹیشن پہنچنے کی بھنک لگتے ہی بڑی تعداد میں ان کے حامی جمع ہو گئے اور وقفے وقفے سے زندہ باد کا نعرہ لگاتے رہے۔

سابق ممبر پارلیمنٹ کے راجندر نگر ٹرمینل آنے کی اطلاع کے بعد سے سیکورٹی کا نظام اتنا سخت کر دیا گیا تھا کہ ان کے حامی چاہ کر بھی قریب نہیں آ سکے۔ شہاب الدین کے اسٹیشن پر پہنچتے ہی سکیورٹی اہلکار نے انہیں اپنے گھیرے میں لے لیا اور براہ راست سمپورن کرانتی کے ایس -2 کوچ میں لے کر چلے گئے۔ تاہم سابق ممبر پارلیمنٹ کا پہلے سے ریزرویشن کی فہرست میں نام نہ رہنے کی وجہ سے ایس -2 کوچ میں سوار ہونے والے مسافروں کو اپنے برتھ سے ہاتھ دھونا پڑا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر آر جے ڈی کے سابق رکن پارلیمان شہاب الدین کو تہاڑ جیل لے جایا گیا

فائل فوٹو

پولیس کی سخت سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے سابق ممبر پارلیمنٹ کے حامی ایس -2 کوچ میں تو سوار نہیں ہو سکے لیکن کچھ بہت پرجوش حامی عام ڈبے میں سوار ہو گئے۔ اسٹیشن کے احاطے میں پولیس کی گہما گہمی کو دیکھتے ہوئے سابق ممبر پارلیمنٹ کے حامی چاہ کر بھی انہیں دہلی جانے سے نہیں روک پائے۔ ایس -2 میں خاص طور پر تعینات کئے گئے پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں انہیں دہلی لے جایا گیا۔ سابق ممبر پارلیمنٹ کی حفاظت کے لئے بہار پولیس کے ایک افسر کے ساتھ ہی 16 جوانوں کو لگایا گیا ہے۔ سابق ممبر پارلیمنٹ کے ایس -2 کوچ میں لے جائے جانے کی وجہ سے جن مسافروں کا ریرویشن اس کوچ میں تھا انہیں ایس -1 اور ایس -3 میں جانا پڑا۔ سابق ممبر پارلیمنٹ کو دہلی کے تہاڑ جیل لے جائے جانے کی اطلاع سیوان ضلع انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر کافی خفیہ رکھا تھا اور کسی کو بھی یہ اطلاع نہیں تھی کہ شہاب الدین کو کب لے جایا جائے گا۔ سابق ممبر پارلیمنٹ کے حامی ان کے دہلی لے جانے کے معاملے میں مسئلہ پیدا نہ کر دیں، اس کے لئے رازداری برتی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ 24 اکتوبر 2016 کو سپریم کورٹ نے سیوان کے تاجر چندا بابو اور صحافی راج دیو رنجن کی بیوہ آشا رنجن کی درخواستوں کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت، بہار حکومت اور سابق ممبر پارلیمنٹ کو نوٹس دے کر پوچھا تھا کہ ملزم کو آخر تہاڑ جیل میں کیوں نہیں بھیجا جائے۔ صحافی راج دیو رنجن کی بیوہ آشا رنجن نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ سابق رکن پارلیمنٹ کے سیوان میں رہنے سے انہیں جان کا خطرہ ہے اور یہ ڈر بھی ہے کہ کہیں ان کے شوہر کے قتل کے معاملے میں جاری سماعت متاثر نہ ہو۔ سابق ممبر پارلیمنٹ کے سیوان میں رہتے ہمیشہ ڈر قائم رہے گا کہ وہ کہیں ثبوتوں کو متاثر نہ کر دیں۔ ان درخواستوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے محمد شہاب الدین کو سیوان جیل سے تہاڑ جیل بھیجے جانے کا حکم دیا تھا۔ تیزاب معاملے میں اپنے دو بیٹوں کو کھو چکے اور اسی معاملے میں گواہی دینے کو لے کر تیسرے بیٹے کے قتل سے ناخوش تاجر چندا بابو نے سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ان میں انصاف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز