بشیر ہاٹ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد اب پر اسرار خاموشی ، حقیقت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقامی افراد کا شکوہ

Jul 09, 2017 06:23 PM IST | Updated on: Jul 09, 2017 06:23 PM IST

کلکتہ: کلکتہ شہر سے 70کلو میٹر کی دوری پر واقع بشیر ہاٹ سب ڈویژن میں پر اسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے ۔مارکیٹ، دوکانیں ، بازار اور لوگوں کی آمدو رفت توبحال ہوچکی ہے کہ مگر یہاں کے مقامی لوگوں کی زبانوں پر یہ ایک بڑاسوال ہے کہ کیا پھر یہاں دوبارہ بھائی چارہ ، دوستانہ ماحول اور فرقہ واریت سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کے کام آنے کی روایات قائم ہوسکے گی؟ ۔ کیوں کہ متنازع پوسٹ کے بعد ہوئے ہنگامہ آرائی ، پادوریا تھانہ میں توڑ پھوڑ اورایک دوسرے کی ملکیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش نے سماجی تانے بانے کو بالکل کمزور کردیا ہے ۔رہی سہی کسرقومی میڈیا میں آنے والی خبریں اور سیاسی بیانات نے پوری کردی ہے ۔

یہاں گزشتہ ہفتہ فیس بک پر پیغمبر اسلام ؐاور خانہ کعبہ سے متعلق توہین آمیز کارٹون کے پوسٹ کرنے کے بعدبڑے پیمانے پرہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور سڑک جام کی وارداتیں ہوئی تھیں ۔ اس واقعے کوقومی میڈیا میں اس طرح پیش کیا جارہا ہے کہ بنگال میں بھی کشمیری پنڈتو ں کی طرح مسلم اکثریتی علاقوں سے ہندؤں کو بے دخل کیا جارہا ہے ۔بشیر ہاٹ میں ہندؤں کی زندگی گزارنا مشکل ہے مگربشیر ہاٹ سب ڈویژن کے کئی علاقوں کا دورہ کرنے کے بعدپہلا نظریہ جو قائم ہوتا ہے کہ وہ یہ ہے کہ بشیر ہاٹ سب ڈویژن میں متنازع پوسٹ کے بعد مسلم طبقے کے احتجاج ، ہنگامہ آرائی کو حقیقت سے کہیں زیادہ بڑھاچڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ بنگال میں نہ کشمیر جیسے حالات ہیں اور نہ کشمیری پنڈتوں کی طرح ہندؤں کو بے دخل کیا جارہا ہے۔وہیں مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مقامی انتظامیہ چوکسی کا مظاہرہ کرتی تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

بشیر ہاٹ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد اب پر اسرار خاموشی ، حقیقت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقامی افراد کا شکوہ

بشیر ہاٹ شہر میں موبائل ریچارج کا کارو بار کرنے والے سچن منڈل سے یو این آئی کے نمائندے نے جب یہ سوال کیا کہ کیا بشیر ہاٹ میں بھی کشمیر جیسے حالات ہیں، کیا یہاں سے ہندؤں کو نکالاجارہا ہے ؟ منڈل ہمارے سوال پر چونک گئے وہ خود کہتے ہیں کہ انگریزی اور ہندی نیوز چینلوں پر جو دکھایا جارہا ہے وہ حقیقت سے کہیں زیادہ ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کسی بھی مذہب کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔مگر توہین آمیز پوسٹ کرنے والے لڑکے کی گرفتار ی کے بعد مسلمانوں کو اتنے بڑے پیمانے پر احتجاج کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ان کے احتجاج کی وجہ سے علاقے کے امن و امان کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ سچن منڈل مزیدکہتے ہیں کہ ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں زیادہ تر کم عمر کے نوجوان تھے ۔وہ کسی کی بھی سننے کو تیار نہیں تھے۔ہمارے اس سوال پر کیا اس علاقے میں دوبارہ امن قائم ہوسکے گا؟ وہ کہتے ہیں کہ یہاں کئی دہائیوں سے ہندو مسلم کے درمیان اتحادوبھائی چارہ رہا ہے ۔ایک دو حادثے کی وجہ سے یہ ختم نہیں ہوسکتا ہاں اس کو نقصان پہنچا ہے جس کی تلافی میں کافی وقت لگے گا۔

توہین آمیز پوسٹ کرنے والے سورپ سرکارکا گھر مسجد کے قریب ہی واقع ہے، کچی سڑک والے اس گاؤں میں ہندو اور مسلمانوں کی مشترکہ آبادی ہے۔مسجد کے 70سالہ امام نے یو این آئی کو بتایا کہ میں تو یہ نہیں جانتا تھا کہ ’’فیس بک ‘‘ کیا ہے؟ 2جولائی کی شام اچانک ایک بھیڑ یہاں جمع ہوگئی ؟ ہم مسجد میں مغرب کی نماز ادا کررہے تھے۔ہم نے لوگوں سے معلوم کیا کہ ہنگامہ کیوں ہورہا ہے؟ بھیڑ میں شامل نوجوانوں نے فیس بک کے پوسٹ کو دکھلایا جس میں پیغمبرؐاور خانہ کعبہ کی توہین کی گئی تھی۔ہم نے سورپ سرکار کے گھر والوں سے بات کی ،ان لوگوں نے بھی اس کی غلطی کو تسلیم کیا کہ یہ تو غلط ہے،اس درمیان ہمیں معلوم ہوا کہ سورپ سرکار کو پولس نے گرفتار کرلیا ہے، مگر بھیڑ ہنگامہ پر آمادہ تھی مگر ہم لوگوں نے سوروپ سرکار کے گھروالوں کو کچھ نہیں ہونے دیا ۔کچھ لوگوں نے گھر میں آگ لگانے کی کوشش کی ۔مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے ۔

مسجد کے امام کہتے ہیں کہ یہ سب باہری لوگ تھے۔گاؤں میں ہندو مسلم پہلے بھی مل جل کر رہتے تھے اور اب بھی رہتے ہیں۔امام صاحب سے بات ہی کررہے تھے کہ سوروپ سرکار کا دوست سوچن منڈل جو مسجد کے دوسری جانب رہتا ہے وہ وہاں پہنچ گیا۔ہم نے سوچن منڈل سے پوچھا کہ اس گاؤں میں رہنے میں ڈر نہیں لگ رہا ہے؟ ۔منڈل نے کہا کہ اب حالات نارمل ہوچکے ہیں۔باہری لوگ تھے جنہوں نے ہنگامہ آرائی کی ۔ منڈل نے بتایا کہ سوروپ سرکار نے فیس بک پر یہ پوسٹ نہیں کیا تھا۔اسکول کے ایک لڑکے سے سوروپ منڈل کا جھگڑا ہوگیا تھا۔وہ پہلے سوروپ کا دوست تھا۔اس لڑکے کو سوروپ کے فیس بک کا آئی ڈی اور پاسورڈ جانتا ہے نے بدلہ لینے کیلئے یہ پوسٹ کیا ہے۔

اس ہنگامہ کے دوران کئی ایسے بھی واقعات ہوئے جسے میڈیا میں سرخیاں نہیں بنائی گئی۔کئی مقامات جہاں مسلمانوں نے ہندؤں کو نقصان ہونے سے پچایا وہیں بشیر ہاٹ کورٹ کے قریب واقع مسجد میں جہاں ہندؤں نے داخل ہوکر ہنگامہ آرائی کی تو ہندؤں کے ایک طبقے نے مسجد کو نقصان نہیں ہونے دیا۔ اس کے علاوہ جمعےۃ علماء ہند نے مسلمانوں کو اپنا احتجاج واپس لینے اور سڑکوں کو خالی کرانے کی بھر پور کوشش کی ۔دوسری جانب مقامی ممبر پارلیمنٹ ادریس علی، راجیہ سبھا کے ممبر احمد حسن عمران نے بھی ایک وفد لے کر جس میں شیعہ عالم دین مولانا اطہر عباس رضوی اور ایک ہندو مذہبی رہنمامہاراج شامل تھے ۔نے مظاہرین کے درمیان جاکر سمجھانے کی کوشش کی اور کئی مقامات پر کھڑی روکاوٹوں کو دور کرایا۔

بنگلہ دیش سرحد سے محض چند کلومیٹر کی دوری پر واقعہ یہ علاقے سیکورٹی کے لحاظ سے ہمیشہ سے حساس رہا ہے ۔بشیر ہاٹ شہر سے 8کلومیٹر دوری پر واقع کھولا پوتا بازار میں الماری اور دیگر سامانوں کے شوروم کے مالک نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر کہا کہ سوال یہ ہے کہ جب سنیچر سے ہی متنازع پوسٹ کو لے کر مسلمانوں میں بے چینی تھی، پولس انتظامیہ حرکت میں کیوں نہیں آئی ہے۔ متنازع پوسٹ کرنے والے لڑکی کی گرفتاری کے بعد ان عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جو مسلم نوجوانوں کو اشتعال دلارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مقامی پولس انتظامیہ کی ناکامی اور چند مولویوں کی اشتعال انگیز تقریر کا نتیجہ ہے۔

منڈل نے بتایا کہ سوروپ سرکار نے فیس بک پر یہ پوسٹ نہیں کیا تھا۔اسکول کے ایک لڑکے سے سوروپ منڈل کا جھگڑا ہوگیا تھا۔وہ پہلے سوروپ کا دوست تھا۔اس لڑکے کو سوروپ کے فیس بک کا آئی ڈی اور پاسورڈ جانتا ہے نے بدلہ لینے کیلئے یہ پوسٹ کیا ہے۔ اس ہنگامہ کے دوران کئی ایسے بھی واقعات ہوئے جسے میڈیا میں سرخیاں نہیں بنائی گئی۔کئی مقامات جہاں مسلمانوں نے ہندؤں کو نقصان ہونے سے پچایا وہیں بشیر ہاٹ کورٹ کے قریب واقع مسجد میں جہاں ہندؤں نے داخل ہوکر ہنگامہ آرائی کی تو ہندؤں کے ایک طبقے نے مسجد کو نقصان نہیں ہونے دیا۔

اس کے علاوہ جمعےۃ علماء ہند نے مسلمانوں کو اپنا احتجاج واپس لینے اور سڑکوں کو خالی کرانے کی بھر پور کوشش کی ۔دوسری جانب مقامی ممبر پارلیمنٹ ادریس علی، راجیہ سبھا کے ممبر احمد حسن عمران نے بھی ایک وفد لے کر جس میں شیعہ عالم دین مولانا اطہر عباس رضوی اور ایک ہندو مذہبی رہنمامہاراج شامل تھے ۔نے مظاہرین کے درمیان جاکر سمجھانے کی کوشش کی اور کئی مقامات پر کھڑی روکاوٹوں کو دور کرایا۔ بنگلہ دیش سرحد سے محض چند کلومیٹر کی دوری پر واقعہ یہ علاقے سیکورٹی کے لحاظ سے ہمیشہ سے حساس رہا ہے ۔بشیر ہاٹ شہر سے 8کلومیٹر دوری پر واقع کھولا پوتا بازار میں الماری اور دیگر سامانوں کے شوروم کے مالک نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر کہا کہ سوال یہ ہے کہ جب سنیچر سے ہی متنازع پوسٹ کو لے کر مسلمانوں میں بے چینی تھی، پولس انتظامیہ حرکت میں کیوں نہیں آئی ہے۔

متنازع پوسٹ کرنے والے لڑکی کی گرفتاری کے بعد ان عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جو مسلم نوجوانوں کو اشتعال دلارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مقامی پولس انتظامیہ کی ناکامی اور چند مولویوں کی اشتعال انگیز تقریر کا نتیجہ ہے۔ جمعےۃ علماء مغربی بنگال کے اسسٹنٹ سیکریٹری مفتی رفیق الاسلام جو سوموار سے ہی پورے علاقے میں امن قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مسلمانوں نے بیٹھے بیٹھائے بی جے پی اور آر ایس ایس کو پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا ہے ۔انہوں نے کسی کا بھی نام لیے بغیر کہا کہ یہ سب معاملہ نافہم پیری ومریدی کرنے والے دوافراد کی کارستانی کا نتیجہ ہے۔

مفتی رفیق الاسلام نے کہا کہ جمعےۃ علماء مغربی بنگال کے صدر اور ریاستی وزیر مولانا صدیق اللہ چودھری اور جمعےۃ کی ٹیم نے متعدد مقامات روکاوٹوں کو ختم کرایا اور عوام کو سمجھایا کہ متنازع پوسٹ کرنے والے کو گرفتار کرلیا گیا ہے تو پھر احتجاج کیوں؟ مفتی رفیق الاسلام نے کہا کہ کئی مقامات پر جمعےۃ کی ٹیم پر بھی حملہ کیا گیا۔مولانا صدیق اللہ کے قافلے کو بھی روک دیا گیا۔ خیال رہے کہ پادوریا تھانہ میں اور دیگر علاقے میں جہاں ہندؤں کے دوکانوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے وہیں بشیر ہاٹ شہر جہاں مسلم آبادی بہت ہی کم ہے میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی دوکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

مسلم پھل فروشوں کی دوکانوں کو لوٹ لیا گیا۔بشیرہاٹ کورٹ کے احاطے میں واقع مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے ۔اس کے علاوہ بشیر ہاٹ شہر سے متصل تیری مونی میں مچھلی فروشوں کے گودام جس میں اکثریت مسلمانوں کی ہے کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔بشیرہاٹ امینہ مدرسہ کے پاس مسلم دکانوں کو اجاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز