تیزاب قتل معاملہ میں شہاب الدین کو جھٹکا ، ہائی کورٹ سے نہیں ملی راحت ، عمر قید کی سزا برقرار

جسٹس كےكے منڈل اور جسٹس سنجے کمار کی ڈویژن بنچ نے یہاں اس معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے محمد شہاب الدین کی عرضی کارج کردی ۔ ا

Aug 30, 2017 06:41 PM IST | Updated on: Aug 30, 2017 06:41 PM IST

پٹنہ : پٹنہ ہائی کورٹ نے سیوان کے سرخیوں میں رہنے والے تیزاب قتل میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ محمد شہاب الدین کی عرضی آج خارج کر دی۔ جسٹس كےكے منڈل اور جسٹس سنجے کمار کی ڈویژن بنچ نے یہاں اس معاملہ میں فیصلہ سناتے ہوئے محمد شہاب الدین کی عرضی کارج کردی ۔ اس معاملہ نچلی عدالت کے ذریعہ سابق رکن پارلیمنٹ شہاب الدین کودہ گیہ عمر قید کی سزا برقرار سکھی گئی ہے۔

اس سے قبل اس معاملہ میں سیوان کی خصوصی عدالت نے 11 دسمبر 2015 کو سزا سنائی تھی۔ عدالت نے قتل میں محمد شہاب الدین کے ساتھ ساتھ راجکمار ساہ، منا میاں اور شیخ اسلم کو بھی عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے محمدشهاب الدين کے وکلاء نے ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی۔ اس معاملہ میں سابق ایم پی اس وقت دہلی کے تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ محمد شہاب الدین کو نچلی عدالت کی طرف سے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تیزاب قتل معاملہ میں شہاب الدین کو جھٹکا ، ہائی کورٹ سے نہیں ملی راحت ، عمر قید کی سزا برقرار

واضح رہے کہ بہار کے سیوان کے کاروباری چندہ بابو کے دو بیٹوں گریش راج عرف نكو اور ستیش راج عرف سونو کو 16 اگست 2004 کو شہاب الدین کے مبینہ اشارے پر اغوا کرکے تیزاب ڈال کر قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد 16 جون 2014 کو سیوان کے ڈی اے وی اسکول موڑ کے قریب اس کیس کے چشم دید گواہ چندہ بابو کے تیسرے بیٹے راجیو کو بھی گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز