شترو گھن سنہا کا ایک مرتبہ پھر تلخ حملہ ، بی جے پی کو ون میں آرمی اور دوجوانوں کی فوج نہیں بننا چاہئے

Nov 05, 2017 07:56 PM IST | Updated on: Nov 05, 2017 07:56 PM IST

پٹنہ : اداکار سے سیاستداں بنے شتروگھن سنہا نے ایک مرتبہ پھر بی جے پر نشانہ سادھا ہے ۔ گجرات اور ہماچل پردیش اسمبلی انتخابات کو بی جےپی کیلئے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے شتروگھن سنہا نے کہا کہ ان سے تبھی نمٹا جاسکتا ہے جب پارٹی ون مین شو اور دو جوان کی فوج کی ذہنیت سے باہر آئے ۔

شتروگھن سنہا نے کہا بی جے پا کا پرانا کارکن ہونے کے ناطے ان کے جذبات ہمیشہ پارٹی کے ساتھ ہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال سے نوجوانوں ، کسانوں اور تاجروں کے درمیان غیر اطمینانی کو دیکھتے ہوئے ہمیں گجرات اور ہماچل پردیش میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا ، ہمیں دیوار پر لکھی تحریر کو پڑھنی چاہئے اور اپنے حریفوں کو ہلکا نہیں آنکنا چاہئے ۔

شترو گھن سنہا کا ایک مرتبہ پھر تلخ حملہ ، بی جے پی کو ون میں آرمی اور دوجوانوں کی فوج نہیں بننا چاہئے

شترو گھن نے دیگر متبادل تلاش کرنے کی بحث کو یکسر خارج کرتے ہوئے کہا کہ میں بی جے پی میں پارٹی کو چھوڑنے کیلئے شامل نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ اگر ہم ون مین شو اور دو جوانوں کی فوج بنے رہے تو چیلنجز کا سامنا نہیں کرسکتے ۔

تاہم شترو گھن سنہا نے پارٹی صدر امت شاہ اور وزیر اعظم مودی کا نام نہیں لیا ، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ پارٹی کی قداور لیڈران لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، یشونت سنہا اور ارون شوری کی غلطی تھی ، یا تو انہیں درکنار کردیا گیا یا وہ غیر بنادئے گئے ، ہم سب ایک کنبہ کے مانند ہیں ، اگر کوئی غلطی ہوئی تو اسے سدھارنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی ۔

انہوں نے کہا کہ اڈوانی اور جوشی بی جے پی بانی اراکین میں سے ہیں ، انہیں پارٹی کے مارک درشک منڈل کا رکن بنادیا گیا جو ایک طرح سے ان کی فعال سیاسی زندگی کے خاتمہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز