کولکاتہ کی شان میں بنا داغ ہاتھ رکشوں کا غیر انسانی دستور اب آہستہ آہستہ ہو رہا ہے ختم

Jul 16, 2017 06:52 PM IST | Updated on: Jul 16, 2017 06:52 PM IST

کولکاتہ: ’سٹی آف جوائے‘ کے نام سے مشہور کولکاتہ کی شان میں داغ بن چکے ہاتھ رکشوں کا غیر انسانی دستور موجودہ دور میں اب آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ کلکتہ (اب کولکاتہ) میں ہاتھ رکشہ کی وراثت برطانوی نوآبادیاتی دور سے ملی ہے۔مانسون کے دوران شہر میں پانی سے بھری سڑکوں پر جب بس، ٹرام، ٹیکسی اور موٹر سائیکل چل نہیں سکتی، تو یہ رکشہ ہی لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

مختلف تاریخی اور ثقافتی وراثتوں والے اس شہر کے لوگوں نے دیر سےہی صحیح یہ محسوس کیا کہ پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے ہاتھ رکشہ کھینچنا ایک انسان کی طرف سے دوسرے انسان کو ڈھونے کی یہ مجبوری کسی غیر انسانی عمل سے کم نہیں ہے۔ سماجی کارکن اور انسانی حقوق کے حامی پہلے ہی اسے انسانیت کے خلاف بتا کر اس نظام کو ختم کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔ اب یہ رکشے کہیں کہیں ہی نظر آتے ہیں۔

کولکاتہ کی شان میں بنا داغ ہاتھ رکشوں کا غیر انسانی دستور اب آہستہ آہستہ ہو رہا ہے ختم

ماضی میں ہاتھ رکشہ فلموں اور ادب کا بھی حصہ رہا ہے۔ سال 1953 میں بنگالی فلم ساز -ہدایت کار ومل رائے نے 'دو بیگھہ زمین' فلم بنائی تھی۔ فلم میں غربت اور قرض کی مار جھیل رہے کسان کا کردار ادا کررہےبلراج ساہنی کلکتہ پہنچ کر اپنے گزر بسر کےلئے ہاتھ رکشہ ڈھونے کام کرتے دکھائے گئےہیں۔ شاندارہدایت اور بلراج ساہنی کی بہترین اداکاری نے انسانی مجبوری کے حالات کو بہت سنجیدگی سے پیش کیا تھا۔

مشہور فرانسیسی مصنف ڈومينك لیپيرے نے ’سٹی آف جوائے‘ کے عنوان سے لکھے اپنے ناول میں بھی ہاتھ رکشہ اور اسے کھینچنے والے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ سال 1992 میں ریلیز ہوئی اور سنجیدہ اداکاری کے لئے مشہور اوم پوری کی فلم ’سٹی آف جوائے‘ ہاتھ رکشہ چلانے والوں کی زندگی کا اعادہ کرتی ہے۔ چمک دمک سے بھرے اس شہر کی طرز زندگی میں وسیع تبدیلی لانے والے ٹرام، میٹرو، ای رکشہ جیسے عام نقل و حمل کے ذرائع کی دستیابی کے باوجود ہاتھ رکشہ اب بھی مجبوری کی وجہ سے گلیوں میں چلتے نظر آتے ہیں۔

ایک زمانے میں شمالی کولکاتہ میں ٹریفک کا اہم ذریعہ رہنے والا ہاتھ رکشہ انسانی حقوق کے حمائتیوں کی تنقید کے دائرے میں رہا ہے۔ فی الحال سائكل رکشہ، آٹوركشہ اور ای رکشہ نے ہاتھ رکشہ کی جگہ لے لی ہے۔ اگرچہ کولکاتہ کا روایتی علاقہ مانی جانے والی کالج ا سٹریٹ، كالي گھاٹ، بھوانی پور، هوگ مارکیٹ، باؤ بازار، شیام بازار ، بالی گنج اور امہرسٹ اسٹریٹ کی گلیوں میں اب بھی ہاتھ رکشہ چلتے ہیں۔

سال 2006 میں ریاست کی اس وقت کی بائیں بازو کی حکومت نے اس بنیاد پر ہاتھ رکشہ کے چلن پر پابندی لگا دی تھی کہ جہاں یہ انسانیت کے برعکس پہلو دکھاتا ہے وہیں کولکاتہ کےعام لوگ بھی اب یہاں انسان کو ہی انسان کو ڈھوتے دیکھنے کا طرفدار نہیں ہیں ۔ فی الحال حکمراں ترنمول کانگریس حکومت نے بھی ان ہاتھ رکشہ کو سڑکوں اور گلیوں سے ہٹانا شروع کر دیا ہے، اگرچہ اس نے اس وقت کے بائیں بازو کی حکومت کے فیصلے کی اس وقت مخالفت کی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز